واشنگٹن/اسلام آباد: وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات کی، جو تقریباً ایک گھنٹہ 20 منٹ تک جاری رہی۔ یہ ملاقات نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور اقتصادی اشتراک سمیت کئی کلیدی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ٹرمپ کا پاکستانی قیادت کے لیے شاندار خیرمقدم
ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو "عظیم رہنما” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"میں دو عظیم رہنماؤں سے ملاقات کرنے جا رہا ہوں۔ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل دونوں ہی غیر معمولی شخصیات ہیں۔”
امریکی صدر کی جانب سے یہ الفاظ اور ملاقات کے لیے ریڈ کارپٹ استقبال عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی پوزیشن کی مضبوطی کا مظہر قرار دیے جا رہے ہیں۔
بھارت میں شدید ردعمل، مودی حکومت پر تنقید کی لہر
اس اہم ملاقات پر بھارت میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بھارتی سوشل میڈیا پر شہریوں نے اپنی حکومت اور خصوصاً وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ایک بھارتی صارف نے لکھا:
"مودی کی غلطیوں نے وہ کر دکھایا جو پاکستان کی کوئی حکمت عملی نہ کر سکی۔ انہوں نے عاصم منیر کو پاکستان کے تمام سابق آرمی چیفس سے زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔”
معروف تجزیہ کار اشوک سوائن نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ:
"مودی کی بیوقوفی نے نہ صرف پاکستان کے وزیراعظم بلکہ آرمی چیف کو بھی عالمی سطح پر ایک بااثر شخصیت بنا دیا ہے۔”
ترکی کو بھی ریلیف، ایف-35 پروگرام میں واپسی
پاکستانی قیادت سے ملاقات کے بعد امریکی صدر نے ترک صدر رجب طیب ایردوان سے بھی دو گھنٹے طویل ملاقات کی، جس کے بعد امریکا نے ترکی پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں ختم کر دیں اور اسے ایف-35 فائٹر جیٹ پروگرام میں دوبارہ شامل کرنے کا اعلان کیا۔
ترکی کا مسئلہ کشمیر پر مؤقف برقرار
اس موقع پر صدر ایردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو بھارت کے لیے مزید سفارتی دباؤ کا سبب بن رہا ہے۔
پاکستان کے لیے سفارتی کامیابی، بھارت کے لیے سفارتی چیلنج
سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں تاریخی ملاقات نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت میں اضافے کی علامت ہے، بلکہ اس نے بھارت کے لیے نئی سفارتی چیلنجز بھی پیدا کر دیے ہیں۔
اس ملاقات کی تفصیلات تاحال منظرِ عام پر نہیں آئیں، لیکن ذرائع کے مطابق بات چیت میں دفاعی شراکت داری، خطے کی سیکیورٹی، معاشی تعاون اور افغانستان کی صورتحال سمیت کئی حساس معاملات زیر بحث آئے۔
تاریخ رقم ہوئی؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس ملاقات کی براہِ راست تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن سفارتی علامتیں واضح کرتی ہیں کہ یہ نئی عالمی صف بندی کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے، جس میں پاکستان کا کردار مزید نمایاں ہو رہا ہے۔






