نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں کو غزہ کے لیے ایک نیا امن منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد، اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی تشکیل جیسے نکات شامل ہیں۔
کن ممالک کو منصوبہ دکھایا گیا؟
منصوبہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، مصر، اردن، ترکیہ، انڈونیشیا اور پاکستان کے سربراہان کو پیش کیا گیا۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ ایک منظم اور سنجیدہ نوعیت کا امن خاکہ مسلم دنیا کے سامنے رکھا گیا ہے۔
منصوبے کی اہم نکات
مستقل جنگ بندی
یرغمالیوں کی رہائی
اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا
غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد
حماس کے بغیر نئی حکومت کی تشکیل
فلسطینی اتھارٹی کو بااختیار بنانا
مشترکہ سکیورٹی فورس کا قیام
عرب و اسلامی ممالک کی مالی مدد سے تعمیر نو
مسلم ممالک کا ردعمل
عرب اور اسلامی رہنماؤں نے منصوبے کو ابتدائی طور پر خوش آئند قرار دیا، تاہم انہوں نے اسرائیلی قبضے، مغربی کنارے کے ممکنہ انضمام اور بیت المقدس کے مذہبی مقامات کی حیثیت میں تبدیلی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
ٹرمپ کی یقین دہانی
صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے کسی بھی حصے کو ضم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق، موجودہ پیشکش ایک متوازن حل ہے جس سے خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
امریکی ایلچی کی امید افزا بات
امریکی ایلچی نے بتایا کہ جلد اس حوالے سے بڑی پیش رفت سامنے آنے کی امید ہے۔ اجلاس کے بعد مسلم رہنماؤں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایک "سنجیدہ اور قابلِ غور” منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔






