ایران سے تیل خریدنے والوں پر سخت پابندیاں عائد ہوں گی، امریکی صدر کا دوٹوک اعلان
واشنگٹن – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر پابندیوں کے سلسلے میں سخت موقف اپناتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک اور کمپنیوں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر کسی نے ایران سے تیل یا پیٹروکیمیکل مصنوعات خریدیں تو اس پر امریکی پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا، "جو ملک یا فرد ایران سے تیل خریدے گا، وہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کا تجارتی یا اقتصادی تعلق قائم نہیں رکھ سکے گا۔” امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل کی تمام خریداری فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کا تازہ دور اچانک منسوخ کر دیا گیا ہے۔ عمانی وزارت خارجہ کے مطابق، ہفتے کو طے شدہ ملاقات کو لاجسٹک وجوہات کی بنیاد پر ملتوی کیا گیا ہے۔
عمانی وزیر خارجہ بدر البوسیدی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی باہمی رضامندی سے مذاکرات کے اگلے دور کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکا کی اس پالیسی کا مقصد ایران پر معاشی دباؤ بڑھا کر اسے جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت کے لیے آمادہ کرنا ہے۔






