اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی جانب سے گزشتہ مالی سال کا 12,970 ارب روپے کا ٹیکس ہدف پورا نہ ہونے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات سے قبل وزارت خزانہ اور ایف بی آر نے مالی سال 2023-24 کی ٹیکس محاصل اور مالی کارکردگی کا ڈیٹا آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔
ٹیکس شارٹ فال کی وجوہات
ذرائع ایف بی آر کے مطابق، گزشتہ مالی سال کے لیے مقرر کردہ 12.9 کھرب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 11.74 کھرب روپے اکٹھے کیے جا سکے، جس کی بنیادی وجوہات میں:
مہنگائی میں کمی
معاشی سرگرمیوں کی سست رفتاری
عدالتی مقدمات میں تاخیر
شامل ہیں۔ ایف بی آر حکام کے مطابق، 250 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس کیسز اب بھی التوا کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے 3.1 ٹریلین روپے کا سہ ماہی ہدف بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
ٹیکس ٹو جی ڈی پی ہدف بھی پورا نہ ہو سکا
حکام نے بتایا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کا 10.5 فیصد کا ہدف بھی حاصل نہیں کیا جا سکا، جبکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سست روی کی وجہ سے نئے ٹیکس اقدامات سے متوقع ریونیو نہیں حاصل ہو سکا۔
غیر ٹیکس آمدنی میں بہتری
تاہم، ایف بی آر کے مطابق گزشتہ سال اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع اور پیٹرولیم لیوی کے باعث نان ٹیکس ریونیو میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
سیلاب، فائلرز میں اضافہ اور مالی کارکردگی
حکام نے یہ بھی کہا کہ رواں مالی سال اب تک ٹیکس وصولی ہدف سے کم رہی ہے، جس کی بڑی وجہ سیلاب ہے۔ تاہم، انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو گزشتہ سال 70 لاکھ سے بڑھ کر 77 لاکھ ہو گئی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری
ذرائع کے مطابق، حکومت نے گزشتہ مالی سال میں 24 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچتے ہوئے 2.4 کھرب روپے کا پرائمری سرپلس حاصل کیا، جبکہ مالی خسارہ جی ڈی پی کے 5.4 فیصد تک محدود رہا، جو مقررہ ہدف سے بہتر ہے۔ تاہم، صوبوں کی جانب سے وعدہ کردہ سرپلس میں 280 ارب روپے کی کمی دیکھی گئی۔
این ایف سی پر پیش رفت
وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو نئی این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل نو اور اب تک کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا، اور جلد صوبوں کی مشاورت سے اجلاس بلانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔






