نیویارک – 24 ستمبر 2025:
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کی نیویارک میں عالمی بینک (ورلڈ بینک) کے صدر اجے بنگا سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے، ترقیاتی تعاون اور مستقبل کے اہداف پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت:
ملاقات میں
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
بھی وزیراعظم کے ہمراہ شریک تھے۔
اصلاحات اور ترقیاتی تعاون پر گفتگو:
وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی بینک کے صدر کو پاکستان کے جامع اصلاحاتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ:
"ہم معیشت کے استحکام، نجی شعبے کے فروغ اور انتظامی بہتری کے لیے سنجیدہ اور مربوط اقدامات کر رہے ہیں۔”
انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب اور کورونا وبا کے دوران پاکستان کے لیے عالمی بینک کی مدد اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
اجے بنگا کی قیادت پر اعتماد:
وزیراعظم نے ورلڈ بینک کی قیادت میں آنے والی تبدیلیوں کا بھی خیرمقدم کرتے ہوئے کہا:
"آپریشنز کو تیز تر اور مؤثر بنانے، اور نجی شعبے کو متحرک کرنے کے لیے آپ کی قیادت لائق تحسین ہے۔”
نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کی تعریف:
وزیراعظم نے 2026 سے 2035 کے لیے ورلڈ بینک کے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کو بروقت اور مستقبل بین حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے طویل مدتی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
ورلڈ بینک کی پاکستان کے لیے حمایت:
ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے پاکستان کی جانب سے جاری اصلاحاتی کوششوں کو سراہا اور یقین دہانی کروائی کہ:
"ورلڈ بینک مستقبل میں بھی پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید گہرا کرے گا، بالخصوص نجی سرمایہ کاری، تعلیم، توانائی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے شعبوں میں۔”
پس منظر:
ورلڈ بینک اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پر محیط شراکت داری رہی ہے، جو انفراسٹرکچر، توانائی، تعلیم، زراعت اور ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم شعبہ جات میں جاری ہے۔ حالیہ ملاقات اس دیرینہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی سمت ایک مثبت قدم تصور کی جا رہی ہے۔






