اسلام آباد / نیویارک: پاکستان نے فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حالیہ فیصلے کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے، اور اسے فلسطینی عوام کے "جائز حقوق کی فتح” قرار دیا ہے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلے عالمی برادری کی طرف سے انصاف، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی حمایت کا مظہر ہیں۔ ان کا کہنا تھا:
"دو ریاستی حل منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے، اور پاکستان دیگر ممالک سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور قراردادوں کے مطابق فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں۔”
اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سعودی عرب اور فرانس کی میزبانی میں اقوام متحدہ کے تحت ہونے والے مسئلہ فلسطین سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے پاکستان کا دیرینہ مؤقف پیش کیا۔
اجلاس کے دوران مزید ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کیے جانے کے اعلانات نے اجلاس کی اہمیت اور مؤثریت میں نمایاں اضافہ کر دیا۔
پاکستان کی ’اعلانِ نیویارک‘ کی مکمل حمایت
پاکستان نے اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلانِ نیویارک کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسے "منصفانہ اور پائیدار امن” کے لیے پاکستان کی مستقل وابستگی کا اظہار قرار دیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق:
"پاکستان 1988 میں فلسطین کو تسلیم کرنے والے اوّلین ممالک میں شامل ہے، اور ہم فلسطین کو اقوام متحدہ کا مکمل رکن بنانے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔”
عرب و عالمی رہنماؤں کا مؤقف
اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ دو ریاستی حل پر عالمی اتفاق رائے، مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی طرف ایک تاریخی موقع ہے۔
انہوں نے فرانس کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا:
"یہ اقدام ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی سمت ایک ٹھوس پیش رفت ہے۔”
ادھر فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کے فیصلوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
"ہم ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری خودمختار ریاست کو تسلیم کیا۔ سعودی عرب اور فرانس کی کوششوں سے عالمی سطح پر فلسطین کی شناخت کو نئی تقویت ملی ہے۔”






