اہم خبریںدنیا

فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اقدام نمائشی ہے: امریکا

واشنگٹن / لندن / کینبرا: امریکا نے برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے فیصلے کو "نمائشی اقدام” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ:

"ہماری ترجیح نمائشی اعلانات نہیں بلکہ سنجیدہ سفارت کاری ہے جو امن، اسرائیل کی سیکیورٹی اور یرغمالیوں کی رہائی جیسے اہم امور کو ترجیح دیتی ہے۔”

امریکی مؤقف میں واضح کیا گیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن و خوشحالی صرف "حماس کے بغیر” ممکن ہے۔

کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان

اس سے قبل گزشتہ روز کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ نے فلسطین کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کرنی نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ:

"اسرائیلی حکومت ایک منظم حکمتِ عملی کے ذریعے فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو روک رہی ہے، تاہم کینیڈا اب فلسطین کو تسلیم کرتا ہے۔”

آسٹریلوی حکومت نے اپنے مؤقف میں کہا:

"یہ اقدام دو ریاستی حل کی بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہے۔ تاہم فلسطین میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔”

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی اسی طرز پر بات کرتے ہوئے کہا:

"حماس کو مستقبل میں حکومت یا سیکیورٹی کے کسی شعبے میں کوئی کردار نہیں دیا جائے گا۔ برطانیہ آنے والے دنوں میں حماس کے متعدد رہنماؤں پر پابندیاں عائد کرنے جا رہا ہے۔”

ماحول کشیدہ، عالمی سطح پر ردعمل کا سلسلہ جاری

امریکی ردعمل کے بعد عالمی سیاسی منظرنامے میں ایک بار پھر فلسطین کے مسئلے پر تقسیم سامنے آ رہی ہے۔
جہاں یورپی و مغربی ممالک کی ایک بڑی تعداد فلسطینی ریاست کے حق میں آواز بلند کر رہی ہے، وہیں امریکا تاحال اسرائیل کی حمایت میں مضبوطی سے کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، فلسطین کو تسلیم کرنے کے یہ اقدامات علامتی ضرور ہیں، مگر اس سے خطے میں سفارتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور مستقبل میں دو ریاستی حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button