اہم خبریںدنیا

سعودی عرب کا برطانیہ، آسٹریلیا اور پرتگال کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا خیرمقدم

ریاض / نیویارک: سعودی عرب نے برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور پرتگال کی جانب سے فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام اور دو ریاستی حل کی جانب ایک مثبت اور اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام نہ صرف فلسطینی عوام کے دیرینہ حقوق کو تسلیم کرنے کی جانب ایک عملی قدم ہے بلکہ یہ عالمی برادری کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا مظہر بھی ہے۔ سعودی عرب نے توقع ظاہر کی کہ مزید ممالک بھی اسی طرز پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے، تاکہ فلسطینی عوام اپنے وطن میں امن، وقار اور خودمختاری کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے اور فلسطینی عوام کے لیے ایک پرامن و خوشحال مستقبل کے حصول میں بین الاقوامی حمایت کی ضرورت ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور مشرق وسطیٰ سے متعلق ایک اہم کانفرنس نیویارک میں جاری ہے۔ اسی موقع پر آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا، جو کہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کیا گیا۔

انتھونی البانیز نے کہا:

"آسٹریلیا فلسطینی عوام کی اپنی ریاست کے قیام کی جائز اور دیرینہ خواہشات کو تسلیم کرتا ہے۔”

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے بین الاقوامی شرائط کو پورا کرنا ہوگا، جن میں:

اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا

جمہوری انتخابات کا انعقاد

مالیاتی شفافیت اور گورننس میں اصلاحات
شامل ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین اس اقدام کو مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے سیاسی حل کی طرف ایک ممکنہ پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے فوری ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button