اس سال شدید سردی پڑے گی، موسم کی حیرت ناک فورکاسٹ آگئی
اسلام آباد: ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے عالمی سلسلے ’لا نینا‘ کی ایک نئی لہر تیزی سے بنتی جا رہی ہے، جس کے اکتوبر سے دسمبر 2025 کے دوران فعال ہونے کے 71 فیصد امکانات ہیں۔ اس فنامنا کے نتیجے میں پاکستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق بحرالکاہل کے استوائی حصے میں پانی کی سطح ٹھنڈی ہونے لگی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ’لا نینا‘ دوبارہ نمودار ہو رہا ہے۔ گزشتہ بار یہ فنامنا اپریل میں ختم ہوا تھا، مگر اب سائنسدانوں کو یقین ہے کہ اس کی واپسی سے دنیا بھر میں موسمی نظام ایک بار پھر غیر متوقع رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
لا نینا کیا ہے؟
‘لا نینا’ ایک پیچیدہ موسمیاتی مظہر ہے جو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سمندری درجہ حرارت کے کم ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ جب یہ ٹھنڈک مسلسل تین ماہ تک برقرار رہے اور درجہ حرارت معمول سے 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ کم ہو، تو اسے ‘لا نینا’ کہا جاتا ہے۔
اس کے برعکس اگر درجہ حرارت 0.5 ڈگری یا اس سے زیادہ بڑھ جائے تو یہ صورتحال ‘ایل نینو’ کہلاتی ہے۔ یہ دونوں مظاہر دنیا بھر میں موسمیاتی نظام کو متاثر کرتے ہیں اور ان کے اثرات ایک دوسرے کے الٹ ہوتے ہیں۔
پاکستان پر ممکنہ اثرات
ماضی کے تجربات کی روشنی میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘لا نینا’ کے دوران:
سردیوں کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے
برفباری اور کہر (دھند) کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے
خشک سالی یا بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی ممکن ہے
فصلوں، پانی کی دستیابی اور توانائی کے شعبوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
ماہرین کا مشورہ ہے کہ حکومتی ادارے، زراعت، صحت اور توانائی کے شعبے اس موسمیاتی تبدیلی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں۔






