اسلام آباد/لندن – وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے اہم سنگِ میل ہے، تاہم فی الحال اس معاہدے میں کسی تیسرے ملک کی شمولیت کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا:
"معاہدے کے تحت اگر پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی ایک پر کہیں سے حملہ ہوا تو یہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، اور ہم مل کر اس کا جواب دیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ:
"معاہدے میں تیسرے ملک کی شمولیت کا امکان موجود ہے، لیکن فی الحال اس بارے میں کچھ کہنا جلد بازی ہوگی۔ اس کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔”
پاکستان کے وقار میں اضافہ
وزیرِ دفاع کے مطابق، اس دفاعی معاہدے نے پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے اور خطے میں پاکستان کے کردار کو مضبوط کیا ہے۔ معاہدہ نہ صرف دفاعی تعاون کا عکاس ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔
وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ کا بیان
دوسری جانب لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ:
"ڈیڑھ سال سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیابی سے چل رہی ہے۔ حرمین شریفین کی حفاظت کی سعادت پاکستان کو نصیب ہونا ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔”
معاہدے کی تفصیلات
یاد رہے کہ گزشتہ روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کے دوران "اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے” (Strategic Mutual Defense Agreement – SMDA) پر دستخط کیے گئے۔
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان:
دفاعی تعاون کو فروغ
مشترکہ عسکری مشقیں
انٹیلیجنس شیئرنگ
کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ ردعمل
جیسے نکات پر مشتمل ہے۔
خطے میں امن و سلامتی کا عزم
معاہدے کا مقصد صرف دو طرفہ دفاع نہیں بلکہ خطے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ عزم کی ترجمانی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں نئے دفاعی توازن کی بنیاد بن سکتا ہے۔






