توشہ خانہ ٹو کیس کے 2 اہم گواہوں کے بیانات سامنے آگئے، اہم انکشافات
اسلام آباد – توشہ خانہ ٹو کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کیس کے دو اہم گواہان، انعام اللہ شاہ اور وعدہ معاف گواہ صہیب عباسی، کے عدالت میں ریکارڈ کرائے گئے بیانات ایکسپریس نیوز کو موصول ہوگئے ہیں، جن میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔
صہیب عباسی کا اعتراف: جیولری سیٹ کی قیمت دباؤ میں آ کر کم لگائی
پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی نے اپنے بیان میں انکشاف کیا ہے کہ بلغاری جیولری سیٹ کی قیمت جان بوجھ کر کم لگائی گئی۔ ان کے مطابق سابق پرسنل سیکرٹری انعام اللہ شاہ نے ان پر دباؤ ڈالا کہ جیولری سیٹ کی ویلیو صرف 50 لاکھ روپے لگائی جائے۔ صہیب عباسی نے بتایا کہ انہیں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر قیمت کم نہ کی گئی تو سرکاری اداروں سے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔
صہیب عباسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے 23 مئی 2024 کو نیب کے سامنے معافی کی درخواست جمع کروائی اور چیئرمین نیب کے سامنے اعترافی بیان دیا۔ اس بیان پر انہوں نے دستخط بھی کیے۔ مزید یہ کہ وہ بیان انہوں نے مجسٹریٹ کے روبرو بھی دہرایا، جس میں اعتراف کیا کہ انہوں نے ڈر کے باعث جیولری سیٹ کی قیمت کم کر کے رپورٹ تیار کی تھی۔
انعام اللہ شاہ کا بیان: دباؤ ڈالا، ڈبل تنخواہ لی، بشریٰ بی بی کی ناراضی پر برطرف ہوا
سابق پرسنل سیکرٹری انعام اللہ شاہ نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ انہوں نے صہیب عباسی پر جیولری سیٹ کی قیمت کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 2019 سے 2021 تک بیک وقت پی ٹی آئی اور سرکاری ملازمت دونوں سے تنخواہیں لیتے رہے۔ انعام اللہ شاہ کے مطابق، انہیں بشریٰ بی بی کی ناراضی پر ملازمت سے برطرف کیا گیا، کیونکہ بشریٰ بی بی کو شک تھا کہ ان کے بھائی کے جہانگیر ترین سے تعلقات ہیں۔
انعام اللہ شاہ کے مطابق، وہ بطور کمپٹرولر وزیرِ اعظم ہاؤس بنی گالہ میں تعینات تھے۔ ان کے بیان کے مطابق، بلغاری جیولری سیٹ سعودی ولی عہد نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بطور تحفہ پیش کی تھی۔
نیب کا مؤقف: جیولری سیٹ اصل قیمت سے بہت کم پر ظاہر کی گئی
نیب ذرائع کے مطابق، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے بلغاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کروائی، بلکہ پرائیویٹ اپریزر سے کم قیمت لگوا کر سیٹ اپنے پاس رکھا۔ نیب حکام کا کہنا ہے کہ جیولری سیٹ کی اصل قیمت 7 کروڑ 50 لاکھ روپے تھی، جبکہ اس کی ویلیو صرف 59 لاکھ روپے ظاہر کی گئی۔ بانی پی ٹی آئی نے صرف 29 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے۔
جیولری سیٹ میں نیکلیس، بریسلیٹ، ائیر رنگز اور ایک انگوٹھی شامل تھیں، جنہیں نیب حکام نے تحقیقات کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔






