اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

بھارت نے سیلابی پانی چھوڑنے سے قبل تفصیلی معلومات فراہم نہیں کیں: ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد (13 ستمبر 2025) – ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ بھارت نے حالیہ سیلابی صورتحال سے متعلق سفارتی ذرائع کے ذریعے کچھ معلومات فراہم کیں، لیکن یہ معلومات غیر مکمل اور غیر تفصیلی تھیں۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم انڈس واٹر کمشنر کے طے شدہ چینل کو استعمال نہیں کیا۔

"سندھ طاس معاہدے کے تمام نکات پر مکمل عملدرآمد بھارت کی ذمہ داری ہے، اور اس کی خلاف ورزی سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد متاثر ہوتا ہے۔” – ترجمان دفتر خارجہ

سیلابی صورتحال پر تشویش

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج اور راوی میں اچانک پانی چھوڑے جانے سے پاکستان کے کئی علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

سیلاب کے باعث:

درجنوں بستیاں زیر آب آ گئیں

سینکڑوں افراد بے گھر ہو گئے

لوگ عارضی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں

مال مویشی اور ذاتی املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے

حکومتی ردعمل

ترجمان کے مطابق سیلاب سے متعلق کسی بین الاقوامی فلیش اپیل کا فیصلہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کرے گی، اور وزارت خارجہ اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون اور عملدرآمد کے لیے تیار ہے۔

پس منظر: آبی دہشتگردی کا الزام

یاد رہے کہ پاکستان پہلے بھی بھارت پر "آبی دہشتگردی” کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، جہاں بغیر پیشگی اطلاع کے پانی چھوڑنے کے واقعات سے پاکستان میں انسانی اور معاشی نقصان سامنے آتا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو ایسے اقدامات سے قبل پاکستان کو بروقت اور تفصیلی معلومات فراہم کرنا لازم ہے۔

تجزیہ:

پاکستانی دفتر خارجہ کا مؤقف ایک مرتبہ پھر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ پانی کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان صرف ماحولیاتی یا زرعی مسئلہ نہیں بلکہ سفارتی اور انسانی حقوق کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ اگر اس پر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button