اہم خبریںدنیا

شمالی کوریا میں غیر ملکی میڈیا دیکھنے پر سزائے موت میں اضافہ اقوام متحدہ کی چشم کشا رپورٹ جاری

جنیوا / نیویارک: اقوام متحدہ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں، جہاں غیر ملکی فلمیں یا ڈرامے دیکھنے اور شیئر کرنے جیسے افعال پر بھی شہریوں کو سزائے موت دی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی رپورٹ کے مطابق، شمالی کوریا میں نہ صرف جبری مشقت اور قید کا سلسلہ بڑھ گیا ہے بلکہ سزائے موت کے نفاذ میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سن 2015 کے بعد شمالی کوریا نے کم از کم 6 ایسے نئے قوانین متعارف کروائے جن میں سزائے موت شامل ہے، اور ان میں غیر ملکی میڈیا دیکھنے یا پھیلانے جیسے جرائم بھی شامل ہیں۔

عوامی سزائیں خوف کی فضا قائم کرنے کا ذریعہ

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان سزاؤں کا نفاذ عوامی مقامات پر فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے کیا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں خوف اور جبر کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔ خاص طور پر 2020 کے بعد غیر ملکی مواد دیکھنے یا تقسیم کرنے والے افراد کو بڑی تعداد میں پھانسیاں دی گئیں۔

دنیا کی سخت ترین نگرانی

رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا نے اپنے شہریوں کی زندگیوں پر کنٹرول کو مزید سخت کر دیا ہے، اور نگرانی کے جدید ترین طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق "دنیا میں کوئی اور آبادی ایسی سخت پابندیوں کے تحت زندگی نہیں گزار رہی”۔

سیاسی قیدیوں کے کیمپ اور جیلیں – جبر، تشدد اور بھوک کا گڑھ

تحقیقات کے مطابق شمالی کوریا میں اب بھی کم از کم چار سیاسی قیدی کیمپ فعال ہیں جہاں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں۔ عام جیلوں میں بھی قیدیوں کو تشدد، بھوک اور جبری مشقت کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کئی فراریوں نے قیدیوں کو جسمانی حالت بگڑنے، بھوک اور زیادتی کے باعث مرتے دیکھا۔

رپورٹ کا پس منظر

یہ رپورٹ اُن 300 افراد کے انٹرویوز پر مبنی ہے جو گزشتہ 10 برسوں کے دوران شمالی کوریا سے فرار ہوئے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی حالات جاری رہے تو شمالی کوریائی عوام کو مزید جبر، خوف اور محرومی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اقوام متحدہ کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے شمالی کوریا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سزائے موت کا خاتمہ کرے، سیاسی قیدیوں کے کیمپ بند کرے اور عوام کو اُن کے بنیادی انسانی حقوق سے آگاہ کرنے کے اقدامات کرے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button