واشنگٹن – معروف امریکی قدامت پسند تجزیہ کار چارلی کرک قاتلانہ حملے میں جان کی بازی ہار گئے۔ وہ یوٹا ویلی یونیورسٹی میں خطاب کے دوران فائرنگ کا نشانہ بنے، جہاں انہیں شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم سرجری کے باوجود جانبر نہ ہو سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ:
"امریکی نوجوانوں کے خیالات کو چارلی کرک سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکا۔”
صدر نے اعلان کیا کہ اتوار تک ملک بھر میں پرچم سرنگوں رہیں گے تاکہ کرک کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔
تقریر کے دوران حملہ، قاتل تاحال گرفتار نہیں
چارلی کرک کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ٹرانس جینڈر افراد سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کر رہے تھے۔ واقعے کے فوراً بعد یونیورسٹی میں افراتفری پھیل گئی۔ سیکیورٹی ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچے اور تحقیقات شروع کر دیں، تاہم قاتل تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
یوکرین پر تنقید بھی خبروں میں رہی
چارلی کرک حالیہ برسوں میں یوکرینی حکومت پر تنقید کے باعث بھی خبروں میں رہے۔ وہ امریکی پالیسیوں میں "بائیں بازو کی مداخلت” اور "مخالف بیانیے کو دبانے” کے خلاف سخت مؤقف رکھتے تھے۔






