ریاض/3 جولائی 2025 – مشرق وسطیٰ میں امن و انصاف کی حمایت میں سعودی عرب نے ایک بار پھر مظلوم فلسطینیوں کے حق میں مضبوط اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسرائیلی حکام کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے پر خودمختاری کے مطالبے کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا:
"ہم فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کو وسعت دینے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔”
سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی القدس (یروشلم) ہو۔
عرب میڈیا کے مطابق، سعودی وزارت خارجہ نے اس مؤقف کو مملکت کا "مستقل، اصولی اور غیر متزلزل موقف” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی اقدامات کے خلاف ٹھوس اقدام کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر سختی سے عمل کروایا جائے۔
یہ اعلان ایک مضبوط پیغام ہے کہ فلسطینی عوام تنہا نہیں، اور امت مسلمہ بالخصوص سعودی عرب ان کے تاریخی، قانونی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
ایک امید افزا قدم – انصاف، خودمختاری اور فلسطینی عوام کے روشن مستقبل کی طرف!






