پشاور (09 ستمبر 2025): پشاور ہائی کورٹ نے زیر التوا مقدمات کی تعداد کم کرنے اور انصاف کی جلد فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے شام کی عدالتیں شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ عدالتیں پشاور اور ایبٹ آباد کی سیشن کورٹس میں آزمائشی بنیادوں پر کام کریں گی۔
ذرائع کے مطابق ہائی کورٹ کی جانب سے پشاور اور ایبٹ آباد کے جوڈیشل افسران کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر کے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ شام کی عدالتیں ڈھائی بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک کام کریں گی، جن میں سول کیسز، رینٹ کیسز، فیملی کیسز کے علاوہ منشیات کے ان مقدمات کی سماعت کی جائے گی جن میں سزا سات سال سے کم ہو، خاص طور پر خواتین اور نابالغ ملزمان کے مقدمات پر توجہ دی جائے گی۔
ہزاروں مقدمات نمٹائے، زیر التوا کیسز میں نمایاں کمی
نئے عدالتی سال کے آغاز پر کورٹ روم نمبر ون میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے بتایا کہ پچھلے سال کے دوران ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ جوڈیشری نے داخل ہونے والے مقدمات سے زائد کیسز نمٹائے ہیں۔
ان کے مطابق:
ہائی کورٹ میں زیر التوا کیسز کی تعداد 39,073 سے کم ہو کر 36,702 رہ گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں پچھلے سال 2 لاکھ 63 ہزار 437 مقدمات زیر التوا تھے۔
ایک سال میں 4 لاکھ 85 ہزار 198 نئے کیسز داخل ہوئے۔
ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ججز نے 5 لاکھ 27 ہزار 283 مقدمات نمٹائے۔
اب زیر التوا کیسز کی تعداد کم ہو کر 2 لاکھ 23 ہزار 419 ہو گئی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتوں کی کارکردگی میں بہتری لانے، انصاف کی بروقت فراہمی اور عوام کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری رہیں گے۔
تجزیہ:
شام کی عدالتوں کا آغاز عدالتی نظام میں ایک نئی اور مثبت پیش رفت ہے، جو نہ صرف ججز کے دباؤ کو کم کرے گی بلکہ عام شہریوں کو بھی جلد انصاف فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔






