اہم خبریںدنیا

امریکا کا فلسطینی وفد کو ویزا جاری کرنے سے انکار، اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت مشکوک

نیویارک: امریکا نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے فلسطینی صدر اور ان کے پورے وفد کو ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے بعد فلسطینی نمائندگی پر سوالیہ نشان اٹھ گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس آج نیویارک میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے رہنما شریک ہوں گے۔ اجلاس کے دوران دو ریاستی حل اور فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے موضوعات پر اہم پیش رفت کی توقع کی جا رہی تھی۔

پہلی بار پورے وفد کو روکا گیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ صرف کسی ایک رہنما کو نہیں بلکہ پورے فلسطینی وفد کو امریکہ آمد سے روک دیا گیا ہے۔ اس سے قبل 1988 میں بھی امریکا نے یاسر عرفات کو ویزا دینے سے انکار کیا تھا، تاہم موجودہ واقعہ اس لحاظ سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ فلسطینی قیادت کی مکمل نمائندگی کو محدود کیا جا رہا ہے، جبکہ مسئلہ فلسطین ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔

دو ریاستی حل پر خصوصی کانفرنس

22 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے دوران ایک خصوصی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس کا موضوع "دو ریاستی حل” ہے۔ اس کانفرنس کی قیادت سعودی عرب اور فرانس کر رہے ہیں، اور اس میں فلسطینی صدر کی شرکت متوقع تھی۔ کانفرنس میں برطانیہ، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کی جانب سے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جانا تھا۔

یورپی ردعمل: اجلاس جنیوا منتقل کرنے کی تجویز

امریکی اقدام پر عالمی ردعمل بھی سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے پرک لاسن نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ:

"اگر امریکا فلسطینی وفد کو ویزا دینے سے انکار کرتا ہے، تو جنرل اسمبلی کا اجلاس نیویارک کے بجائے جنیوا میں منعقد کیا جانا چاہیے تاکہ فلسطینی عوام کے حق کو تسلیم کیا جا سکے اور صدر ٹرمپ کو واضح پیغام دیا جا سکے۔”

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button