اہم خبریںدنیا

پاکستان سے امریکا کے لیے براہ راست پروازوں کا امکان، امریکی ایوی ایشن ٹیم کا اہم دورہ

کراچی (ایوی ایشن ڈیسک) – پاکستان سے امریکا کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی کی راہ ہموار ہونے لگی ہے، کیونکہ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کی اعلیٰ سطحی ٹیم کئی سال بعد پاکستان کے دورے پر پہنچ گئی ہے۔ یہ پیشرفت پاکستانی ایوی ایشن سیکٹر کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

پانچ رکنی امریکی ٹیم دبئی سے ایک غیر ملکی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچی ہے۔ ٹیم پاکستان میں قیام کے دوران سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کے مختلف شعبوں کا آڈٹ کرے گی، جس میں لائسنسنگ، فلائٹ اسٹینڈرڈز، ایئروردنیس (طیاروں کی فنی اہلیت) اور اسٹیٹ سیفٹی پروگرام شامل ہیں۔

آڈٹ 12 ستمبر تک مکمل ہوگا

امریکی ٹیم 12 ستمبر تک آڈٹ کا عمل مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہوگی۔ آڈٹ کا مقصد پاکستان کی سول ایوی ایشن کی بین الاقوامی معیارات پر جانچ پڑتال ہے تاکہ مستقبل میں پاکستانی ایئر لائنز کو امریکا میں دوبارہ آپریشنز کی اجازت دی جا سکے۔

ماضی کی مشکلات اور حال کی امیدیں

یاد رہے کہ 2020 میں جعلی پائلٹ لائسنس اسکینڈل منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک میں پاکستانی ایئر لائنز کی پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اسی واقعے کے نتیجے میں امریکی FAA نے پاکستان CAA کی ریٹنگ کو بھی کم کر دیا تھا۔

اب اس آڈٹ میں کامیابی نہ صرف پاکستان سول ایوی ایشن کی عالمی ساکھ کی بحالی کا ذریعہ بنے گی بلکہ امریکا کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی کے دروازے بھی کھول سکتی ہے۔

مثبت نتائج کی صورت میں بڑی پیشرفت متوقع

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ آڈٹ کے نتائج مثبت رہے تو پاکستانی ایئر لائنز کو امریکا میں دوبارہ پروازیں شروع کرنے کی اجازت مل سکتی ہے، جو نہ صرف مسافروں کے لیے سہولت کا باعث ہوگا بلکہ پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے معاشی طور پر بھی سودمند ہوگا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button