"سمندر میں انٹرنیٹ کیبلز کٹ گئیں، عالمی سطح پر رابطوں میں خلل کا خدشہ”
اسلام آباد (ٹیکنالوجی ڈیسک) – بحیرہ احمر میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کی متعدد کیبلز کٹنے کے باعث دنیا کے کئی ممالک میں انٹرنیٹ رابطوں میں خلل اور سست رفتاری کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ مائیکروسافٹ سمیت مختلف بین الاقوامی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مائیکروسافٹ کے مطابق، یہ کیبلز مختلف ممالک کو بین الاقوامی انٹرنیٹ نیٹ ورک سے جوڑنے کا اہم ذریعہ تھیں، اور ان کے متاثر ہونے سے عالمی سطح پر انٹرنیٹ خدمات میں کمی یا تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
پاکستان میں بھی انٹرنیٹ کی رفتار متاثر
اس واقعے کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس کیے گئے، جہاں گزشتہ روز ملک کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ پی ٹی سی ایل کے ترجمان نے تصدیق کی کہ جدہ، سعودی عرب کے قریب ایک سب میرین کیبل کٹنے کی وجہ سے پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست روی کا سامنا کرنا پڑا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ "متعلقہ ٹیمیں متبادل راستوں سے ڈیٹا کی روانی کو بحال رکھنے کے لیے کام کر رہی ہیں اور جلد ہی مکمل سروس بحال کر دی جائے گی۔”
عالمی سطح پر تشویش
زیرِ سمندر کیبلز عالمی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں کسی بھی قسم کا تعطل نہ صرف انٹرنیٹ سروسز کو متاثر کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی کاروبار، مالیاتی نظام، اور کمیونیکیشن نیٹ ورکس بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے کٹنے کی وجوہات میں جہازوں کے لنگر، زیرِ آب زلزلے یا دیگر تکنیکی وجوہات شامل ہو سکتی ہیں، تاہم حتمی تجزیہ تحقیقات کے بعد سامنے آئے گا۔
احتیاطی اقدامات کی ضرورت
ٹیکنالوجی اور مواصلاتی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے متبادل انفراسٹرکچر، مزید ریڈنڈنٹ (backup) لنکس، اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔






