ملک بھر میں آٹا بحران شدت اختیار کر گیا، حکومت حرکت میں آ گئی، قیمتوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات تیز
اسلام آباد / کراچی / پشاور / کوئٹہ (نمائندہ خصوصی)
ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز نے گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا باعث ضرور بنایا ہے، تاہم وفاق اور صوبائی حکومتیں صورتحال کا جائزہ لے کر فوری اقدامات کر رہی ہیں تاکہ فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
زرعی زمینوں کو متاثر کرنے والی قدرتی آفات کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں گندم کی رسد متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں چاروں صوبوں میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ خاص طور پر سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بین الصوبائی ترسیل کی مشکلات کے باعث قیمتیں بڑھیں، تاہم اب اس بحران پر قابو پانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے متحرک ہو گئے ہیں۔
بڑے شہروں میں قیمتوں کا جائزہ، مانیٹرنگ سخت
کراچی میں گندم کی قیمت 9300 روپے فی 100 کلو تک جا پہنچی ہے جبکہ 50 کلو آٹا 5000 روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
پشاور میں گندم کی قیمت 9800 روپے اور 20 کلو آٹا 2500 روپے سے زیادہ میں فروخت ہو رہا ہے۔
کوئٹہ میں گندم 9600 روپے اور آٹے کی ایکس مل قیمت 2130 روپے تک جا پہنچی ہے۔
لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی قیمتوں میں 900 سے 1000 روپے فی من تک اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔
حکومتی اقدامات میں تیزی، ذخیرہ اندوزی اور رشوت ستانی پر کریک ڈاؤن
پنجاب سے گندم کی ترسیل پر مبینہ رشوت اور چیک پوسٹوں پر غیر قانونی بھتہ خوری کے الزامات پر حکومت نے سخت نوٹس لیا ہے۔ حکام کے مطابق فلور ملز ایسوسی ایشن سے رابطے میں رہ کر شفافیت، نگرانی اور بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بیکری مصنوعات کی قیمتوں پر نظر، ریلیف پیکیج متوقع
میدہ اور فائن آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ڈبل روٹی، بن اور بیکری آئٹمز کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کا امکان ہے، تاہم حکومت کی جانب سے فوری ریلیف پیکج اور سبسڈی کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ عام صارف متاثر نہ ہو۔
ماہرین کا مشورہ اور عوامی تعاون کی اپیل
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بین الصوبائی ہم آہنگی، گندم کی آزاد ترسیل اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی جاری رہی تو صورتحال آئندہ چند ہفتوں میں قابو میں آ سکتی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور قانونی ذرائع سے خریداری کو ترجیح دیں۔
فوڈ سیکیورٹی یقینی بنانے کا حکومتی عزم
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی قیمت پر ملک میں آٹے کی قلت پیدا نہیں ہونے دی جائے گی اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر فوری، منظم اور موثر اقدامات جاری رہیں گے۔






