اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

ایوان میں ایک رکن بھی زیادہ ہوا تو خیبرپختونخوا حکومت گرادیں گے، گورنر فیصل کریم کنڈی

بھٹ شاہ: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اگر حزبِ اختلاف کو ایوان میں عددی برتری حاصل ہوئی تو جمہوری حق کے تحت تحریکِ عدم اعتماد لائی جائے گی۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ موجودہ وقت میں کسی بھی غیر جمہوری سازش یا حکومت گرانے کے ارادے کو فروغ نہیں دیا جا رہا۔

فیصل کریم کنڈی حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے 282 ویں عرس کی تقریبات کے افتتاح کے موقع پر بھٹ شاہ میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے صوبائی وزیر ثقافت ذوالفقار شاہ کے ہمراہ مزار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔

امن و انصاف — وقت کی اہم ضرورت
گورنر نے گفتگو میں زور دیا کہ ملک کو اس وقت اتحاد، امن اور انصاف کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا:

"جو خیبرپختونخوا میں امن لائے گا، ہم اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔”

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی استحکام اور امن و امان کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے ہر مثبت قوت کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔

تحریکِ عدم اعتماد — ایک جمہوری راستہ
فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ اگر ایوان میں حزبِ اختلاف کو ایک عددی برتری بھی حاصل ہوئی تو یہ ان کا جمہوری حق ہے کہ وہ تحریکِ عدم اعتماد پیش کریں، اور اس میں کوئی غیر آئینی پہلو نہیں ہوگا۔

نو مئی کے واقعات — انصاف ناگزیر
گورنر نے نو مئی کے واقعات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی:

"قانون سب کے لیے برابر ہے۔ جو بھی قانون شکنی کا مرتکب ہوگا، اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔”

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اگر عدالتوں سے ریلیف ملتا ہے تو یہ ان کا قانونی حق ہے، تاہم این آر او کسی کو نہیں دیا جائے گا۔

قانون کی حکمرانی — وقت کا تقاضا
گورنر خیبرپختونخوا نے ملک میں سزا اور جزا کے مؤثر نظام پر زور دیا، اور کہا کہ صرف اسی صورت میں قانون کی بالادستی قائم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، یہی اصول ملک میں جمہوری روایات کے استحکام اور سیاسی بلوغت کے لیے ناگزیر ہیں۔

سیاسی حلقوں کا ردعمل
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گورنر فیصل کریم کنڈی کا بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وفاقی حکومت جمہوریت کو مضبوط بنانے اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے سنجیدہ ہے، جب کہ خیبرپختونخوا میں بھی آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button