اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) — حکومتِ پاکستان کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی مرحلہ وار ملک بدری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ پی او آر (Proof of Registration) کارڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد ان افغان شہریوں کو وطن واپس بھیجا جا رہا ہے جن کے پاس قانونی اقامتی یا ویزا دستاویزات موجود نہیں ہیں۔
غیر قانونی باشندوں کے خلاف مؤثر کارروائی
وفاقی وزارت داخلہ اور امیگریشن حکام کے مطابق:
صرف اسلام آباد سے اب تک 16,400 سے زائد افغان شہری ملک بدر کیے جا چکے ہیں۔
یہ کارروائیاں اُن افراد کے خلاف کی جا رہی ہیں جو غیر قانونی طور پر مقیم ہیں یا جن کے ویزے کی معیاد ختم ہو چکی ہے۔
ملک بھر میں یہ عمل مرحلہ وار جاری ہے، جس میں قانونی و انسانی تقاضوں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
قانونی ویزا ہولڈرز کے لیے نرمی
حکومتی حکام نے واضح کیا ہے کہ:
"ایسے افغان شہری جو اسٹڈی یا میڈیکل ویزا پر پاکستان میں مقیم ہیں، انہیں ملک بدری سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔”
ایسے افراد کے قیام میں نرمی برتی جا رہی ہے۔
حکومتی پالیسی کے مطابق، قانونی ویزا رکھنے والے شہری ملک بدری کے عمل کا حصہ نہیں ہیں۔
باعزت اور محفوظ واپسی کی کوششیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ:
حکومت ایسے افغان شہریوں کو معاونت اور سہولیات فراہم کر رہی ہے جنہیں وطن واپس جانا ہے۔
واپسی کا عمل باعزت اور محفوظ طریقے سے مکمل کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔
مختلف ادارے اور ضلعی انتظامیہ مہاجرین کو ٹرانسپورٹ، رہنمائی اور دیگر سہولیات مہیا کر رہے ہیں۔
انسانی ہمدردی اور قانون کا توازن
حکومتِ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی قانونی ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انسانی مسئلہ بھی ہے۔
اسی لیے عمل کو غیر متنازع، تدریجی اور شفاف رکھا جا رہا ہے۔
صرف وہی افراد واپس بھیجے جا رہے ہیں جو:
🇵🇰 قانونی ویزا نہیں رکھتے
پی او آر یا اے ایف آر کارڈ کی میعاد ختم ہو چکی ہے
اقامتی حیثیت ثابت کرنے کے دستاویزات پیش نہیں کر سکتے
پس منظر: پالیسی اور سیاسی دباؤ
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب:
پاکستان میں سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں
عوامی و سیاسی حلقوں کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا
حکومت اقوامِ متحدہ اور عالمی اداروں کے ساتھ مل کر واپسی کا محفوظ فریم ورک بھی ترتیب دے رہی ہے
نتیجہ: ریاستی رٹ کا مظاہرہ، انسانی وقار کے ساتھ
پاکستان میں غیر قانونی افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل حکومت کی جانب سے ریاستی قوانین کے نفاذ اور انسانی ہمدردی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔






