یروشلم/واشنگٹن – مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتِ حال کے پیش نظر امریکی سفارتخانے نے مقبوضہ بیت المقدس میں آج سے جمعہ تک اپنا سفارتخانہ بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات اور ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا ہے۔
امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اسرائیل میں موجود تمام امریکی سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہلخانہ کو اگلے نوٹس تک محفوظ شیلٹرز میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عملے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
مزید برآں، امریکی محکمہ خارجہ نے ایک تازہ سفری ہدایت نامہ (ٹریول ایڈوائزری) جاری کیا ہے، جس میں امریکی شہریوں کو ایران، عراق اور اسرائیل کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق:
"مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ‘مڈل ایسٹ ٹاسک فورس’ قائم کر دی گئی ہے، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امداد فراہم کرے گی۔”
امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلے موجودہ حالات کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں اور تمام شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور متعلقہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی سفارتخانے کا یہ قدم اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حالات خطے میں بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا باعث بن چکے ہیں، اور عالمی طاقتیں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔






