اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) – عالمی ادارہ انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس نے دنیا کے پرامن ممالک کی سالانہ درجہ بندی جاری کر دی ہے، جس میں پاکستان کی پوزیشن میں مزید چار درجے تنزلی ہوئی ہے۔ اس تنزلی کے بعد 2025 کے عالمی امن انڈیکس میں پاکستان 144 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
درجہ بندی میں دنیا کے 163 ممالک کو شامل کیا گیا ہے، اور پاکستان اب ان آخری 20 کم پرامن ممالک میں شمار ہونے لگا ہے، جس پر ملکی و عالمی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
خطے کے دیگر ممالک کی درجہ بندی
عالمی امن انڈیکس کی اس رپورٹ میں خطے کے دیگر اہم ممالک کی درجہ بندی کچھ یوں رہی:
متحدہ عرب امارات: 52 ویں نمبر پر
سعودی عرب: 90 ویں
سری لنکا: 97 ویں
چین: 98 ویں
بھارت: 115 ویں
بنگلہ دیش: 123 ویں
امریکہ: 128 ویں نمبر پر
سنگاپور ایشیا کا پرامن ترین ملک قرار
رپورٹ کے مطابق، سنگاپور کو ایک بار پھر ایشیا کا سب سے پرامن ملک قرار دیا گیا، جو مسلسل دوسرے سال چھٹے نمبر پر برقرار رہا۔ عالمی سطح پر آئس لینڈ پہلے، آئرلینڈ دوسرے، اور آسٹریا تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔
دیگر نمایاں پرامن ممالک میں شامل ہیں:
پرتگال: 7 ویں
ڈنمارک: 8 ویں
سلووینیا: 9 ویں
فن لینڈ: 10 ویں نمبر پر
کم ترین درجہ رکھنے والے ممالک
عالمی فہرست میں سب سے آخر میں آنے والے ممالک درج ذیل ہیں:
روس: 163 ویں (آخری نمبر)
یوکرین: 162
سوڈان: 161
جمہوریہ کانگو: 160
یمن: 159
افغانستان: 158 ویں نمبر پر
پاکستانی وزیراعظم کا ردِعمل
وزیرِاعظم پاکستان نے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ ملک کو درپیش خطرات خصوصاً قدرتی آفات اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان چین کی جدید ٹیکنالوجی اور ایمرجنسی مینجمنٹ کے طریقے اپنائے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ریسکیو، تحفظ اور امن و امان کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
درجہ بندی کے بنیادی معیارات
عالمی امن انڈیکس میں شامل ممالک کو تین اہم شعبوں کی بنیاد پر جانچا گیا:
تحفظ اور سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال
اندرونی و بیرونی تنازعات کی شدت
ملکی استحکام، عدالتی و سیاسی ڈھانچہ اور جرائم کی شرح
تجزیہ: پاکستان کے لیے لمحۂ فکریہ
پاکستان کا مسلسل نیچے جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کو داخلی سلامتی، قانون کی بالادستی، اور سماجی انصاف جیسے شعبوں میں سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو یہ درجہ بندی نہ صرف بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرے گی بلکہ سرمایہ کاری اور عالمی تعاون پر بھی منفی اثر ڈالے گی۔






