بھارت سے پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب میں تباہ کن سیلاب، 28 افراد جاں بحق — قصور شہر خطرےب میں
لاہور/قصور: بھارت کی جانب سے اچانک پانی چھوڑے جانے کے بعد پنجاب کے بڑے دریاؤں میں غیر معمولی اور خطرناک سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا پڑا ہے۔ اب تک 28 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے۔ قریبی دیہات، خاص طور پر تلوار پوسٹ سے ملحقہ علاقوں کو خالی کرانے کے لیے مسلسل اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق اس مقام پر پانی کے بہاؤ میں کچھ کمی آئی ہے اور یہ 3 لاکھ 90 ہزار کیوسک سے گھٹ کر 3 لاکھ 3 ہزار 828 کیوسک پر آ چکا ہے، تاہم خطرہ ابھی بھی مکمل طور پر ٹلا نہیں۔
ہیڈ سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر بھی سیلابی صورتحال تشویشناک ہے، جبکہ دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں بہاؤ ایک لاکھ 92 ہزار 545 کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ ہیڈ سدھنائی، شاہدرہ، اور جسڑ کے مقامات پر بھی پانی میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، جبکہ دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی آمد میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے تصدیق کی ہے کہ بھارت میں بند ٹوٹنے کے باعث پانی کا بڑا ریلا قصور کی طرف بڑھا، اور دریائے ستلج میں 1955 کے بعد سب سے زیادہ پانی دیکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق "قصور شہر کو بچانا ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ لاہور فی الحال محفوظ ہے۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹے اوکاڑہ، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور لاہور سے نیچے کے دیگر اضلاع کے لیے نہایت نازک ہو سکتے ہیں۔
ریسکیو ادارے اور ضلعی انتظامیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق بروقت کارروائیوں کی بدولت مزید جانی نقصان سے بڑی حد تک بچا جا سکا ہے، تاہم خطرہ ابھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔






