اہم خبریںدنیا

چین کا سہ فریقی ایٹمی مذاکرات سے انکار — امریکا اور روس پر ہتھیاروں میں کمی کی ذمہ داری عائد

بیجنگ / واشنگٹن / پیونگ یانگ (عالمی خبرنامہ) — چین نے امریکا کی جانب سے تجویز کردہ سہ فریقی ایٹمی مذاکرات کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے "غیر حقیقت پسندانہ” قرار دیا ہے۔ بیجنگ نے کہا ہے کہ دنیا کے دو بڑے ایٹمی طاقتور ممالک امریکا اور روس کو سب سے پہلے اپنے ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کرنی چاہیے۔

چین کا مؤقف: "ذمہ داری بڑی طاقتوں پر ہے”
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا:

“چین ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں، اور اس کی ایٹمی پالیسی ہمیشہ قومی دفاع اور کم از کم جوابی صلاحیت پر مرکوز رہی ہے۔”

چین کے مطابق روس اور امریکا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ایٹمی ذخائر موجود ہیں، اس لیے ایٹمی تخفیف اسلحہ کی اولین ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔

ایٹمی طاقتوں کا موازنہ (SIPRI رپورٹ 2025 کے مطابق):

روس: 4,300+ ایٹمی وارہیڈز

امریکا: تقریباً 3,700

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button