اسلام آباد (سیاسی رپورٹر) — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے انکشاف کیا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی ایسے ضمنی انتخابات کا حصہ نہیں بنے گی جن کے نتائج پہلے سے طے شدہ ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کی تمام قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دینے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عمران خان کے نزدیک سب سے بڑی طاقت روحانی اور اخلاقی ہوتی ہے، جب کہ جسمانی طاقت سب سے کمزور تصور کی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ سیاسی و انتخابی نظام میں شفافیت کا فقدان ہے اور پارٹی مزید اس "ڈھکوسلے” کا حصہ نہیں رہنا چاہتی۔
قانونی ٹیم کو ملاقات کی اجازت نہیں
سلمان اکرم راجا، جو عمران خان کے وکیل بھی ہیں، نے شکوہ کیا کہ انہیں اور دیگر قانونی نمائندوں کو گزشتہ کئی ماہ سے اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا قانونی اور آئینی حق ہے، جس سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے، جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
پارٹی پر دباؤ، گھروں پر چھاپے، گرفتاریاں
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اس وقت بھی پہلے سے زیادہ منظم اور فعال ہے، مگر مسلسل کارکنان اور رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور بلاجواز گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پارٹی پارلیمانی کمیٹیوں سے خود کو علیحدہ کر لے۔
نظام پر شدید تنقید
انہوں نے موجودہ نظام کو جھوٹ پر مبنی اور غیر شفاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہاں ضمنی انتخابات بھی بغیر فارم 47 کے نہیں ہوتے، ہر چیز پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کے تحت چلتی ہے”۔ سلمان اکرم راجا نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ جب تک آزادی میسر ہے، آواز بلند کرتے رہیں گے، اور اگر قید یا اذیت خانوں میں بھیجا گیا تو "حالات کے مطابق دیکھیں گے”۔






