اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

ضمانت منظور، مگر رہائی نہیں؟ عمران خان کی رہائی میں کون سی رکاوٹیں باقی ہیں؟

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) — سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کو 9 مئی کے مقدمات میں ضمانت ملنے کے باوجود ان کی فوری رہائی ممکن نظر نہیں آ رہی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کو درپیش دیگر مقدمات اور عدالتی کارروائیاں اب بھی ان کی رہائی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، 9 مئی کے آٹھ مقدمات میں ضمانت منظور

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عمران خان کی تمام آٹھ ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ کی آبزرویشنز عبوری نہیں بلکہ حتمی نوعیت کی تھیں، جو قانونی طور پر قابل قبول نہیں۔

عدالت نے فریقین کو تحریری حکم نامہ جاری کرنے کے لیے چیمبر میں طلب بھی کیا تاکہ قانونی کارروائی کو مکمل کیا جا سکے۔

رہائی میں سب سے بڑی رکاوٹ: راولپنڈی کے 43 مقدمات

اگرچہ 9 مئی کے مقدمات میں یہ ایک بڑی پیش رفت ہے، مگر عمران خان کی رہائی فوری ممکن نہیں۔ راولپنڈی میں ان کے خلاف درج 43 مقدمات اب بھی باقی ہیں، جن میں سے متعدد مظاہروں اور احتجاجی واقعات (ستمبر تا نومبر 2023) سے متعلق ہیں۔ ان مقدمات میں اب تک ضمانت حاصل نہیں کی گئی، جو ان کی رہائی کی راہ میں سب سے بڑی قانونی رکاوٹ ہے۔

مچلکوں کی عدم جمع آوری بھی تاخیر کی وجہ

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ راولپنڈی کے 9 مئی کے مقدمات میں جن مقدمات میں ضمانت ہو چکی ہے، ان میں بھی مچلکے ابھی تک عدالت میں جمع نہیں کروائے گئے۔ یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے، مگر اس کے باعث عمران خان کی رہائی میں مزید تاخیر ممکن ہے۔

قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

قانونی تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے نے عمران خان کے قانونی دفاع کو ضرور تقویت دی ہے، مگر عملی طور پر ان کی رہائی کے لیے تمام زیر التواء مقدمات میں ضمانت حاصل کرنا اور قانونی تقاضے مکمل کرنا ضروری ہوں گے۔

"ضمانت ایک مرحلہ ہے، رہائی ایک الگ قانونی عمل ہے۔ ہر کیس میں الگ ضمانت اور عدالتی حکم درکار ہوتا ہے،” ایک سینئر وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔

نتیجہ: عمران خان کو ابھی مزید قانونی جنگ لڑنی ہے

سپریم کورٹ کا فیصلہ عمران خان کے لیے ایک بڑا ریلیف ضرور ہے، مگر اُن کی مکمل رہائی کے لیے راولپنڈی اور دیگر شہروں میں درج مقدمات میں بھی قانونی پیش رفت درکار ہے۔ آئندہ چند دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ پی ٹی آئی قانونی محاذ پر کس حد تک کامیاب ہو سکتی ہے اور کیا عمران خان عوامی منظرنامے پر دوبارہ متحرک ہو سکیں گے یا نہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button