اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

سیلاب متاثرین سے اظہارِ یکجہتی: "معرکۂ حق” اور جشنِ آزادی کی تقریبات ملتوی

اسلام آباد — ملک بھر میں جاری شدید بارشوں اور تباہ کن سیلابی صورتحال کے پیش نظر، وفاقی حکومت نے 14 اور 17 اگست کی تقریبات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام سیلاب متاثرین سے اظہارِ یکجہتی اور قومی سطح پر سوگ و ہمدردی کے جذبات کے تحت اٹھایا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی خصوصی ہدایت پر اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں منعقد ہونے والا "معرکۂ حق” اور جشنِ آزادی کا پروگرام ملتوی کر دیا گیا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق، موجودہ حالات کے تناظر میں ہر قسم کی تقریبات کو مؤخر کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ تمام قومی وسائل اور توجہ سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی پر مرکوز رکھی جا سکے۔

قومی سانحہ: 250 سے زائد جانوں کا ضیاع

ملک کے مختلف حصوں خصوصاً خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں موسلا دھار بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے ہولناک تباہی مچائی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، اب تک 250 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جن میں سے صرف خیبر پختونخوا میں 200 سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ ضلع بونیر سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے جہاں 150 سے زائد افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔

متاثرین کی تلاش جاری، امدادی کارروائیاں تیز

ریسکیو ادارے اور امدادی ٹیمیں دن رات متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں۔ کئی افراد تاحال لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ پاک فوج، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA)، اور مقامی حکومتیں متاثرین کی مدد میں پیش پیش ہیں۔

حکومتی مؤقف: یکجہتی اور انسانی ہمدردی اولین ترجیح

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ تقریبات کا ملتوی کیا جانا ایک قومی ذمہ داری کے تحت کیا گیا فیصلہ ہے، تاکہ پوری قوم متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہو۔ یہ قدم نہ صرف ہمدردی کا اظہار ہے بلکہ متاثرین کی فوری مدد اور بحالی کے عمل کو اولیت دینے کا عملی مظہر بھی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button