پیرس (12 اگست 2025) — فرانس کے شمالی علاقے میں واقع گرولین نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ایک غیرمعمولی قدرتی واقعے نے انتظامیہ کو حیران کر دیا، جب جیلی فش کے ایک بڑے اور غیر متوقع ہجوم نے پلانٹ کے کولنگ سسٹم میں خلل ڈال دیا، جس کے باعث چار ری ایکٹرز کو احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا۔
پلانٹ کے آپریٹر ای ڈی ایف (EDF) کے مطابق، کولنگ سسٹم کے فلٹرز میں بڑی تعداد میں جیلی فش جمع ہو گئیں، جس کے نتیجے میں حفاظتی خودکار نظام کے تحت ری ایکٹرز 2، 3، اور 4 بند ہو گئے، جبکہ کچھ دیر بعد ری ایکٹر 6 کو بھی بند کرنا پڑا۔
گرولین پلانٹ کو فرانس کے بڑے نیوکلیئر تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے، جس کی مجموعی بجلی پیداوار 5.4 گیگا واٹ ہے۔ اس وقت پلانٹ کے بقیہ دو یونٹس پہلے ہی مرمت کے مراحل سے گزر رہے تھے، یوں عارضی طور پر تمام بجلی پیداوار معطل ہو گئی ہے۔
تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے سے نہ تو کسی پمپ کو نقصان پہنچا ہے اور نہ ہی عملے، پلانٹ یا ماحول کو کوئی خطرہ لاحق ہوا ہے۔ صفائی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور توقع ہے کہ ری ایکٹرز جلد دوبارہ فعال ہو جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری مخلوقات کی یہ اچانک نقل و حرکت موسمیاتی تبدیلیوں اور سمندر کی حرارت میں اضافے سے بھی جڑی ہو سکتی ہے، جس پر مزید تحقیق جاری ہے۔






