اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

جنرل باجوہ کو توسیع دینا تاریخی غلطی تھی، پوری قوم سے معذرت چاہتے ہیں: اسد قیصر

اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو دی گئی توسیع کو "تاریخی غلطی” قرار دے دیا اور اس فیصلے پر پوری قوم سے معافی مانگ لی۔

اتوار کے روز اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسد قیصر نے اعتراف کیا کہ اس وقت جو فیصلہ کیا گیا وہ غلط تھا، اور آئندہ مستقبل میں ایسی کسی پالیسی کا حصہ نہ بننے کا عہد کیا۔

"کسی بھی قسم کی توسیع کا فیصلہ — خصوصاً جنرل باجوہ کو دی گئی توسیع — ایک تاریخی غلطی تھی۔ ہم اس پر پوری قوم سے معافی مانگتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ آئندہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کریں گے”
— اسد قیصر

تحریک تحفظ آئین پاکستان کا سیاسی محاذ پر نیا اعلان
پریس کانفرنس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے تمام غیر ملکی سفارتکاروں سے ملاقاتوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ظلم و جبر کے خلاف ہر قومی اور بین الاقوامی فورم کو استعمال کیا جائے گا۔

رہنماؤں نے موجودہ حکومت کو غیر قانونی، غیر جمہوری اور معاشی طور پر ناکام قرار دیا اور کہا کہ ملک میں جمہوریت اور آئین کی بالادستی بحال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

معاشی تباہی پر اپوزیشن رہنماؤں کی تنقید
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے معاشی صورتحال پر شدید تنقید کی اور کہا:

"2022 کے بعد سے متوسط طبقہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے جبکہ اشرافیہ اپنی دولت میں اضافہ کر رہی ہے”۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی پالیسیاں عوام دشمن ہیں اور ان کا بوجھ صرف عام پاکستانی اٹھا رہا ہے۔

محمود اچکزئی کا الیکشن کے ذریعے بحران کے حل پر زور
اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک میں عوامی اضطراب بڑھ رہا ہے اور حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق:

"تمام مسائل کا واحد اور پائیدار حل شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔”

انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کو آزادانہ رائے دہی کا موقع نہیں دیا جاتا، ملک بحرانوں سے نہیں نکل سکے گا۔

سیاسی میدان میں نئی صف بندیاں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اسد قیصر کا یہ اعتراف اور اپوزیشن کی تازہ سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ آئندہ مہینوں میں ملک کی سیاست ایک نئے رخ پر گامزن ہو سکتی ہے، جہاں عوامی بیانیہ اور جمہوریت کی بحالی مرکزی نکتہ بن جائیں گے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button