بیجنگ / ماسکو / واشنگٹن: عالمی سیاست میں ایک اہم پیشرفت، چین نے روس اور امریکا کے تعلقات میں بہتری کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے تینوں بڑی طاقتوں کے درمیان رابطے اور تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں چین کی قیادت نے امن و استحکام پر مبنی سفارتکاری کو فروغ دینے کی بات کی۔
چین کا مثبت پیغام
چینی میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے گفتگو کے دوران واضح کیا:
"چین چاہتا ہے کہ روس اور امریکا کے درمیان روابط کو برقرار رکھا جائے، تعلقات کو بہتر بنایا جائے، اور یوکرین کے بحران کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا میں جاری کشیدگیوں کے خاتمے کے لیے سفارتی اقدامات انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
🇷🇺🇺🇸 ٹرمپ اور پیوٹن کی متوقع ملاقات
چین کے اس بیان سے قبل ایک اور بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 15 اگست کو الاسکا میں روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ ٹرمپ نے اس ملاقات کی تصدیق اپنے سوشل میڈیا بیان میں کی، جب کہ اس سے قبل بھی وہ وائٹ ہاؤس میں اس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ پیوٹن سے براہِ راست بات چیت کے خواہاں ہیں۔
سفارتکاری کی نئی راہیں
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق چین، روس اور امریکا کے درمیان بڑھتا ہوا رابطہ عالمی استحکام کے لیے خوش آئند ہو سکتا ہے۔ اگر یہ ملاقاتیں مثبت انداز میں آگے بڑھتی ہیں تو نہ صرف یوکرین بلکہ دیگر عالمی تنازعات کے حل میں بھی پیش رفت ممکن ہے۔
امید کی کرن
عالمی سطح پر جاری کشیدگیوں اور عدم استحکام کے ماحول میں یہ خبر ایک امید کی کرن کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ چین کی طرف سے مصالحت کی پیشکش اور روس و امریکا کے ممکنہ مذاکرات سے امن کی راہیں ہموار ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔






