لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی کال پر لاہور میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی، رکن صوبائی اسمبلی شعیب امیر اور دیگر متعدد پارٹی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، لاہور کے ڈی ایچ اے رہبر میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے ریلی نکالی، جس پر پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے کئی رہنماؤں کو حراست میں لیا۔ اس دوران رکن صوبائی اسمبلی شعیب امیر اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی کی گرفتاری کی تصدیق ہوئی ہے۔
گرفتار ہونے والے اہم رہنماؤں میں فرخ جاوید مون، کرنل (ر) شعیب، ندیم صادق ڈوگر، خواجہ صلاح الدین، امین اللہ خان اور اقبال خٹک بھی شامل ہیں۔
پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی فرخ جاوید مون نے پولیس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے گاڑیوں پر ڈنڈے برسائے، شیشے توڑے اور اراکین اسمبلی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، حتیٰ کہ ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے گئے۔
دوسری جانب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کی گئی۔
اسی دوران، انصاف لیگل فورم (ILF) کے صدر ملک شجاعت جندران نے کہا ہے کہ گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی فوری ضمانت کے لیے قانونی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ لاہور کی مختلف کچہریوں میں ماڈل ٹاؤن، ضلعی اور کینٹ کچہری میں تین ٹیمیں موجود ہیں تاکہ قانونی کارروائی کے ذریعے کارکنوں کی جلد رہائی ممکن بنائی جا سکے۔






