واشنگٹن / باکو: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں سفارتی پیش رفت کے لیے متحرک ہو گئی ہے، اور اس بار توجہ کا مرکز آذربائیجان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر کے ’ابراہم معاہدے‘ (Abraham Accords) میں شامل کرنا ہے۔
بین الاقوامی خبر ایجنسی کے مطابق باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ آذربائیجان کے ساتھ نہایت سنجیدہ اور منظم انداز میں مذاکرات کر رہی ہے، اور توقع ہے کہ آنے والے چند ہفتوں یا ایک مہینے میں کسی ممکنہ معاہدے کا اعلان ہو سکتا ہے۔
تعلقات پہلے سے موجود، لیکن توسیع کی کوشش
ذرائع کے مطابق آذربائیجان اور اسرائیل کے درمیان پہلے ہی عسکری، تجارتی اور انٹیلیجنس تعاون پر مبنی تعلقات موجود ہیں۔ ابراہم معاہدے میں شمولیت کو رسمی اور علامتی حیثیت دی جائے گی، تاکہ ان تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاہدہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں ہوگا بلکہ اسے ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جائے گا، خاص طور پر 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کے تناظر میں۔
آرمینیا سے کشیدگی، اور امن معاہدے کی کوشش
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ دونوں پڑوسی ممالک، آذربائیجان اور آرمینیا، کے درمیان امن معاہدے کے لیے بھی کوشاں ہیں، اور ان مذاکرات میں ابراہم معاہدے میں شمولیت کو ایک ممکنہ شرط کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ میں ٹرمپ کے امن مشن کے نمائندے اسٹیو ویٹکوف نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کا دورہ کیا تھا اور صدر الہام علیوف سے ملاقات کی تھی۔ بعد ازاں ویٹکوف کے قریبی ساتھی آریہ لائٹسٹون نے بھی صدر علیوف سے ملاقات کی، جس میں ابراہم معاہدے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
علاقائی سفارتکاری: قازقستان اور دیگر ممالک کو بھی شامل کرنے کی کوشش
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آذربائیجان کے اعلیٰ حکام قازقستان سمیت دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں سے بھی رابطے میں ہیں تاکہ انہیں بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر کے ابراہم معاہدے کی توسیع میں شامل کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے والے ممالک کی فہرست میں اضافہ ہو رہا ہے۔






