رحیم یارخان (اسپیشل رپورٹر):
رحیم یارخان کی تحصیل صادق آباد کے علاقے شیخانی میں قائم پولیس چوکی پر گزشتہ شب ہونے والے دہشت ناک حملے میں پانچ پولیس اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ اندھڑ گینگ اور بکھرانی گینگ کی مشترکہ کارروائی بتایا جا رہا ہے، جس نے ریاستی عمل داری اور امن و امان کے لیے ایک سنگین چیلنج پیدا کر دیا ہے۔
جدید ہتھیاروں سے حملہ، اہلکاروں نے جرات مندی سے مقابلہ کیا
پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے راکٹ لانچرز، ہینڈ گرنیڈز اور خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ واقعے کے وقت چوکی پر صرف سات اہلکار تعینات تھے، جنہوں نے بہادری سے مزاحمت کی۔
افسوسناک طور پر، اہلکار عرفان، سلیم، خلیل، غضنفر اور نخیل جامِ شہادت نوش کر گئے۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر شیخ زید اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
علاقے میں ہائی الرٹ، سرچ آپریشن جاری
واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) کے مطابق، ملزمان کی گرفتاری کے لیے خفیہ اداروں کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے اور جلد ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
شہداء کو سلام، قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی
پولیس حکام نے اس واقعے کو ریاستی رٹ پر حملہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ
"ہمارے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ثابت کیا کہ وہ ریاست کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔ شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔”
پس منظر: جنوبی پنجاب میں جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیاں
جنوبی پنجاب میں بعض اضلاع، خصوصاً رحیم یارخان، راجن پور اور گھوٹکی کی سرحدی پٹی پر جرائم پیشہ گروہوں کی موجودگی ایک عرصے سے چیلنج بنی ہوئی ہے۔ حالیہ حملہ نہ صرف پولیس کی قربانیوں کو نمایاں کرتا ہے بلکہ اس بات کا عندیہ بھی ہے کہ ریاستی اداروں کو منظم اور جدید حکمتِ عملی کے ساتھ ان گروہوں کے خلاف اقدام کرنا ہوگا۔






