نیویارک/ٹوکیو/سیول (نیوز ڈیسک) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درآمدی محصولات (ٹیرف) کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کے بعد ایشیا پیسیفک خطے کی اسٹاک مارکیٹس میں جمعے کی صبح نمایاں مندی دیکھی گئی۔ معاشی ماہرین نے اس صورتحال کو "ٹیرف شاک” کا نام دیا ہے، جو سرمایہ کاری کے عالمی ماحول پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔
ایشیائی مارکیٹس کا ردعمل:
جاپان کا نکئی 225 انڈیکس 0.6 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔
جنوبی کوریا کا KOSPI انڈیکس 3.2 فیصد کی گراوٹ کا شکار ہوا، جو رواں ہفتے کی سب سے بڑی کمی ہے۔
تائیوان کا TAIEX انڈیکس 0.4 فیصد نیچے آیا۔
ہانگ کانگ کی ہینگ سینگ انڈیکس میں معمولی 0.2 فیصد بہتری دیکھی گئی، جسے ایک "مثبت اشارہ” قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکی صدر کے اچانک تجارتی اقدامات نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
"ٹیرف میں اس نوعیت کا اضافہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کرتا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف اسٹاک مارکیٹس بلکہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر بھی پڑتے ہیں”،
معاشی ماہرین کا تبصرہ۔
عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات:
امریکی ٹیرف پالیسی کے اثرات صرف ایشیائی مارکیٹس تک محدود نہیں۔ عالمی سپلائی چین، برآمدی قیمتیں، خام مال کی لاگت اور بین الاقوامی تجارتی توازن سب دباؤ میں آ سکتے ہیں۔
بعض اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر تجارتی کشیدگی میں یہی شدت برقرار رہی، تو مستقبل قریب میں دنیا ایک نئی معاشی سست روی (Global Slowdown) کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
کاروباری برادری کا ردعمل:
عالمی کاروباری حلقے امریکی حکومت کے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے فیصلے نہ صرف موجودہ کاروباری فضا کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی معیشت کے استحکام پر بھی سوالیہ نشان چھوڑتے ہیں۔






