پشاور:
خیبر پختونخوا میں جاری مون سون بارشوں کے نتیجے میں بالائی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (Glacial Lake Outburst Floods – GLOFs) کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس پر پی ڈی ایم اے نے بروقت ردعمل دیتے ہوئے متعلقہ اضلاع کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور حفاظتی اقدامات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
متاثرہ اضلاع میں نگرانی کا سخت نظام
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق چترال اپر و لوئر، دیر، سوات اور اپر کوہستان وہ اضلاع ہیں جہاں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا امکان موجود ہے۔ ان علاقوں میں ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی حالات کے لیے مکمل تیار رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جامع حکمت عملی
پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کرتے ہوئے ضلعی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ:
حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جائے
بروقت وارننگ سسٹم کو فعال رکھا جائے
انخلاء کی مشقیں کروائی جائیں
مقامی آبادی کو ممکنہ خطرات سے متعلق آگاہ کیا جائے
عوام اور سیاحوں کے لیے اہم ہدایات
پی ڈی ایم اے اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں، بالخصوص سیاحوں کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے:
ندی نالوں اور گلیشیائی جھیلوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں
تیز بہاؤ والے پانی میں گاڑیاں داخل نہ کریں
موسم کی اپ ڈیٹس سے باخبر رہیں
ایمرجنسی کی صورت میں قریبی مقامی حکام یا ریسکیو ہیلپ لائن سے رابطہ کریں
ریسکیو سروسز اور ایمرجنسی پلان فعال
پی ڈی ایم اے کے مطابق ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں میں انخلاء کے مراکز قائم کر دیے گئے ہیں، جہاں خوراک، ادویات، خیمے اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
اس کے علاوہ این ایچ اے، ایف ڈبلیو او، اور سی اینڈ ڈبلیو جیسے اہم اداروں کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورت حال سے نمٹا جا سکے۔






