اسلام آباد / تہران:
ایران کے نو منتخب صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان 2 اگست 2025 کو دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان آئیں گے، جہاں وہ اعلیٰ پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ یہ دورہ وزیر اعظم شہباز شریف کی خصوصی دعوت پر عمل میں آ رہا ہے اور اسے دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی صدر کے سیاسی مشیر مہدی سنائی کے مطابق، ڈاکٹر مسعود پزشکیان اپنے دورے کے دوران نہ صرف وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے بلکہ وہ آرمی چیف جنرل (فیلڈ مارشل) عاصم منیر، چیئرمین سینیٹ، اور اسپیکر قومی اسمبلی سے بھی اہم ملاقاتیں کریں گے۔
تعلقات کا نیا باب کھلنے کو ہے
دورے کے دوران سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہو گی۔ مشیر مہدی سنائی کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو موجودہ 3 ارب ڈالر سے بڑھانے پر بھی خصوصی بات چیت ہو گی۔
مزید یہ کہ صوبائی اور سرحدی تعاون کو مستحکم بنانے کے لیے بھی مفاہمت کی توقع کی جا رہی ہے، جس سے خطے میں استحکام اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
تاریخی تسلسل برقرار
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان، گزشتہ دو برسوں میں پاکستان کا دورہ کرنے والے دوسرے ایرانی صدر ہوں گے۔ ان سے قبل سابق صدر ابراہیم رئیسی نے اپریل 2024 میں پاکستان کا تاریخی تین روزہ دورہ کیا تھا، جس میں مختلف اقتصادی معاہدے بھی طے پائے تھے۔
پاکستانی قیادت کی بھرپور تیاری
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی حالیہ بیان میں اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی صدر کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق، دونوں ہمسایہ ممالک خطے میں امن، تجارت اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔






