"ہزاروں سال بعد مسئلہ کشمیر کے حل کی امید؟ ٹرمپ کا پاکستان اور بھارت سے مل کر کام کرنے کا اعلان”
واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ "کیا ہزاروں سال بعد مسئلہ کشمیر کا کوئی پائیدار حل نکل سکتا ہے۔” صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور امن کی بحالی کو اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نہ صرف پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کرے گا بلکہ دونوں ممالک کے ساتھ تجارت کو بھی وسعت دے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاسی بصیرت اور دانشمندی سے خطے میں پائیدار امن ممکن ہو سکتا ہے۔
گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ "X” (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکا کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت فوری اور مکمل جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے ہوش مندی اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر سیزفائر پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک خوش آئند اشارہ ہے، جہاں دہائیوں سے جاری کشیدگی کے خاتمے اور کشمیر جیسے پیچیدہ مسئلے کے پرامن حل کی امید پیدا ہوئی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، امریکہ کی فعال مداخلت، خلیجی ممالک کی حمایت اور پاکستان کے مثبت اور متوازن رویے نے اس جنگ بندی کو ممکن بنایا ہے، جو مستقبل میں ایک دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔






