اہم خبریںدنیا

فرانس کے بعد مالٹا کا بڑا قدم: فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان

ویلٹا/یروشلم — یورپی ملک مالٹا نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہوئے فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اعلان نے یورپی یونین کے اندر فلسطین کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت کو مزید مضبوط کیا ہے۔

وزیر اعظم رابرٹ ابیلا کا باضابطہ اعلان
مالٹا کے وزیر اعظم رابرٹ ابیلا نے اپنے سرکاری فیس بک پیج پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا:

“مالٹا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان کرے گا۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ہماری غیر متزلزل حمایت کا مظہر ہے۔”

وزیر اعظم کے اس واضح اور مضبوط پیغام کو عالمی برادری، بالخصوص عرب اور مسلم دنیا کی جانب سے خوش آئند اور قابلِ تحسین قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کے بعد یورپ میں فلسطین کے لیے نئی امید
مالٹا کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ کے نو منتخب وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی "مشروط حمایت” کا اعلان کیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مالٹا کی قیادت نے نسبتاً تیزی اور دو ٹوک انداز میں فلسطینی ریاست کے حق میں قدم اٹھایا ہے، جو یورپ کے اندر فلسطینی کاز کی اخلاقی اور سیاسی حمایت میں اہم پیش رفت ہے۔

عوامی دباؤ اور اپوزیشن کا کردار
ذرائع کے مطابق مالٹا کی حکومت پر داخلی دباؤ بھی موجود تھا۔ جولائی کے وسط میں ملک کی بڑی اپوزیشن جماعت نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ فلسطینی ریاست کو بلا تاخیر تسلیم کیا جائے۔ عوامی مظاہروں، سیاسی مباحثوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے بڑھتی ہوئی آوازوں نے بالآخر حکومت کو یہ جرات مندانہ قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔

دو ریاستی حل کی طویل المدتی حمایت
مالٹا ماضی سے ہی دو ریاستی حل کا مستقل حامی رہا ہے، اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرنا اس کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ رہا ہے۔ رابرٹ ابیلا کی قیادت میں کیے گئے اس فیصلے کو عالمی سطح پر ایک اصولی اور اخلاقی موقف قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button