اہم خبریںپاکستانلمحہ با لمحہ

پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: نائب وزیراعظم”

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ یا منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اصولوں اور قومی مفادات پر مبنی ہے، اور کسی بھی دباؤ میں آ کر ملکی مؤقف تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور اس کی خارجہ پالیسی اخلاقی اور سفارتی اصولوں کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی جدوجہد اور حق خودارادیت کی ہمیشہ حمایت کرتا آیا ہے۔

ایران پر مؤقف:
ایران پر حملے سے متعلق سوال کے جواب میں نائب وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان نے فوری طور پر باضابطہ مؤقف جاری کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارے قریبی تعلقات ضرور ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی بھی غلط اقدام کو درست قرار دیں۔

پاک بھارت تعلقات پر پالیسی:
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر پر عملدرآمد ہو رہا ہے، لیکن مذاکرات صرف کسی ایک مسئلے پر نہیں بلکہ تمام اہم معاملات پر جامع انداز میں ہونے چاہییں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے باہمی احترام اور مذاکرات کا عمل ناگزیر ہے۔

سندھ طاس معاہدہ:
نائب وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کو بین الاقوامی حیثیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، اور پاکستان اس پر عملدرآمد کا حامی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی:
انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف ریاست کا مؤقف دوٹوک ہے، اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر مستعد اور تیار ہیں۔ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے مؤقف:
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف کوئی نیا کیس درج نہیں کیا۔ ان کے خلاف جاری تمام مقدمات عدالتی دائرہ اختیار میں ہیں، اور جب کوئی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتا ہے، تو قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button