لندن: برطانیہ کی جسٹس سیکریٹری شبانہ محمود نے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے تاریخی قدم کا اعلان کریں، تاکہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں ایک طاقتور سیاسی اور اخلاقی پیغام دنیا کو دیا جا سکے۔
آکسفورڈ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شبانہ محمود کا کہنا تھا:
"یہ صرف ایک علامتی اعلان نہیں ہوگا بلکہ اس کا عملی اور سفارتی اثر بھی پڑے گا۔ فلسطینی عوام کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ عالمی برادری ان کی جدوجہد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کر رہی۔”
کابینہ میں اندرونی دباؤ بڑھنے لگا
ذرائع کے مطابق، وزیراعظم اسٹارمر کو اپنی ہی کابینہ کے کئی ارکان کی جانب سے فلسطین کی ریاستی حیثیت تسلیم کرنے پر دباؤ کا سامنا ہے۔ ان میں ہیلتھ سیکریٹری ویس اسٹریٹنگ اور لندن کے میئر صادق خان بھی شامل ہیں، جو پہلے ہی اس مؤقف کی حمایت کر چکے ہیں۔
غزہ میں انسانی بحران پر شدید تشویش
شبانہ محمود نے غزہ میں حالیہ مہلک حملوں، بنیادی سہولیات کی تباہی اور ہزاروں شہریوں کی ہلاکتوں کو "قطعی طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیا۔ ان کے بقول:
"وزیراعظم اور وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے بھی غزہ میں ہونے والی تباہی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف بیانات سے آگے بڑھیں اور عملی قدم اٹھائیں۔”
بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون سمیت متعدد عالمی رہنما فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے حق میں آواز بلند کر چکے ہیں۔ برطانوی حکومت پر بھی اب دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ واضح مؤقف اختیار کرے۔
تجزیہ:
شبانہ محمود کا مطالبہ لیبر حکومت کی خارجہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ اگر برطانیہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرتا ہے، تو یہ نہ صرف تاریخی فیصلہ ہوگا بلکہ عالمی سفارتی منظرنامے پر ایک اہم اخلاقی اور سیاسی مؤقف کے طور پر دیکھا جائے گا۔





