اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

مظفر گڑھ میں جماعت اسلامی بلوچستان کا لانگ مارچ روک لیا گیا، 11 کارکن گرفتار

مظفر گڑھ (نمائندہ خصوصی) — وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف کوئٹہ سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہونے والے جماعت اسلامی بلوچستان کے لانگ مارچ کو پولیس نے مظفر گڑھ میں روک دیا۔ کارروائی کے دوران دو نائب امیروں سمیت 11 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

لانگ مارچ کے شرکاء آج صبح لورالائی سے روانہ ہوکر ڈیرہ غازی خان کے راستے ملتان جا رہے تھے، تاہم مظفر گڑھ کے مقام پر پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے قافلے کو مزید سفر سے روک دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے لیے ضلعی انتظامیہ سے پیشگی اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی، جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔

واضح رہے کہ یہ مارچ صوبائی امیر جماعت اسلامی اور رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی قیادت میں دو روز قبل کوئٹہ سے روانہ ہوا تھا۔ اس احتجاج کا مقصد بلوچستان میں مبینہ سیاسی و معاشی ناانصافیوں، بدانتظامی اور وفاقی اداروں کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔

مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کارکنوں کی گرفتاری پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا:
"پرامن احتجاج ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے، اور اس پر قدغن جمہوری روایات کی نفی ہے۔ ہم رکاوٹوں کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔”

ادھر سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جماعت اسلامی بلوچستان کی یہ احتجاجی مہم موجودہ سیاسی منظرنامے میں ایک اہم موڑ بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مرکز اور بلوچستان کے تعلقات پہلے ہی تناؤ کا شکار ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button