اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کو بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب فیصلہ دہلی کو کرنا ہے کہ وہ امن اور بات چیت کی راہ اپناتا ہے یا نہیں۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا:
"پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن، استحکام اور پُرامن سفارتکاری کا داعی رہا ہے۔ تمام تنازعات کا دیرپا حل صرف اور صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔”
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا امریکا کا مؤثر دورہ
ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس وقت ایک اعلیٰ سطحی دورے پر امریکا میں موجود ہیں۔ ان کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور جنرل اسمبلی کے صدر سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جب کہ امریکی وزیر خارجہ سے بھی اہم ملاقات متوقع ہے۔
اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے اجلاس میں پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ، غزہ اور فلسطین میں جنگ بندی، امدادی رسائی اور دو ریاستی حل پر زور دیا۔
جموں و کشمیر اور فلسطین پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری اور فلسطینی عوام کے لیے عالمی فورمز پر پُرزور آواز بلند کی ہے۔ پاکستان کی صدارت میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت پُرامن حل پر زور دیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ:
"ہم اسپتالوں، اسکولوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی کے حامی ہیں۔”
سفارتکاری احسان نہیں، دوطرفہ مفاد کا ذریعہ ہے
ترجمان شفقت علی خان نے زور دیا کہ:
"پاکستان کی خارجہ پالیسی اصول، قانون اور امن پر مبنی ہے۔ سفارتکاری کسی پر احسان نہیں بلکہ باہمی مفاد اور احترام کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔”
انہوں نے امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ علاقائی استحکام صرف سنجیدہ سفارتی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔






