پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما مراد سعید کی سینیٹ میں واپسی کو پارٹی کے لیے "بڑی فتح” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مخالفین انہیں سیاست سے مائنس کرنا چاہتے تھے، لیکن پارٹی نے انہیں سینیٹر بنا کر مؤثر انداز میں واپس لایا۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا:
"مراد سعید کو سینیٹ میں بھیج کر ہم نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ہماری سیاست کا اہم ستون ہیں۔ اُن کی واپسی پی ٹی آئی کی نظریاتی فتح ہے۔”
سینیٹ انتخابات میں شفافیت کا دعویٰ
علی امین گنڈاپور نے اس بات پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے سینیٹ انتخابات مکمل طور پر شفاف تھے اور کسی بھی سطح پر خرید و فروخت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا:
"ہمارا مقصد صرف کامیابی نہیں بلکہ شفاف عمل کو یقینی بنانا تھا، جو ہم نے حاصل کیا۔”
ایک صحافی کے سوال پر کہ انہوں نے صرف تین ووٹ کیوں ڈالے، وزیراعلیٰ نے جواب دیا:
"یہ پارٹی کی حکمت عملی کا حصہ تھا، جس کے ذریعے ہم نے اصولی مؤقف کو واضح کیا۔”
سیاسی مقدمات پر شدید تنقید
وزیراعلیٰ نے 9 مئی کے مقدمات اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو سنائی گئی سزاؤں کو "آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"ملک میں انصاف کا نظام مکمل طور پر سیاسی مداخلت کا شکار ہو چکا ہے، اور بے گناہ رہنماؤں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”
امن و امان پر آل پارٹیز کانفرنس طلب
علی امین گنڈاپور نے مزید اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے 24 جولائی کو آل پارٹیز کانفرنس (APC) طلب کر لی ہے۔
تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو باقاعدہ دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں تاکہ دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف متفقہ قومی حکمت عملی طے کی جا سکے۔
یاد رہے…
حال ہی میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جن میں مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا محمد آفریدی اور نورالحق قادری جنرل نشستوں پر کامیاب قرار پائے۔






