لاہور (سیاسی بیورو) — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 5 اگست کو لاہور کے تاریخی مقام مینارِ پاکستان پر ایک بڑے سیاسی جلسے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی لاہور کے صدر شیخ امتیاز نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو جلسے کی اجازت کے لیے باضابطہ تحریری درخواست جمع کرا دی ہے۔
جلسے کا مقصد: پارٹی بانی کی رہائی کے لیے عوامی آواز بلند کرنا
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جلسے کا بنیادی مقصد پارٹی کے بانی کی رہائی کے حق میں عوامی رائے کو منظم اور پرامن انداز میں اجاگر کرنا ہے۔ اس ضمن میں شیخ امتیاز نے کہا:
"یہ اجتماع مکمل طور پر پرامن ہوگا اور جمہوری اصولوں کے مطابق عوامی آواز بلند کرنے کا ایک ذریعہ ہوگا۔”
"اگر مینار پاکستان پر اجازت ممکن نہ ہو، تو کسی متبادل مقام کی پیشکش کو بھی قبول کیا جا سکتا ہے۔”
وقت، مقام اور شرکت کی تفصیل
درخواست کے مطابق جلسہ شام 4 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہے گا، جس میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت، صوبائی رہنما اور اراکینِ اسمبلی کی شرکت متوقع ہے۔ اس جلسے کو پارٹی کی طرف سے ایک اہم سیاسی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
انتظامیہ کے لیے ایک نیا امتحان؟
یہ اعلان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب لاہور میں سیاسی سرگرمیوں پر سیکیورٹی خدشات اور انتظامی سختیوں کے باعث اجازت ناموں کے اجرا میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔
اب نگاہیں ضلعی انتظامیہ پر ہیں کہ آیا وہ جلسے کی اجازت دیتی ہے یا کوئی متبادل حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔
سیاسی تجزیہ: مینارِ پاکستان کا انتخاب، ایک علامتی فیصلہ
سیاسی مبصرین کے مطابق مینارِ پاکستان کا انتخاب صرف ایک مقام نہیں بلکہ ایک طاقتور علامتی پیغام ہے۔ ماضی میں بھی پی ٹی آئی یہاں سے بڑے جلسوں کے ذریعے عوامی طاقت کا مظاہرہ کر چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ 5 اگست کا جلسہ پارٹی کے لیے صرف سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ بیانیے کی بحالی اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی ایک کوشش بھی ہو سکتا ہے۔






