اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

افغان پناہ گزینوں کے لیے خوشخبری: حکومت نئی ویزا پالیسی پر غور کر رہی ہے، سرمایہ کاری اور اثاثوں کے تحفظ کی توقع

اسلام آباد:
پاکستان میں مقیم لاکھوں افغان پناہ گزینوں کے لیے ایک امید افزا پیش رفت متوقع ہے، کیونکہ حکومت نئی ویزا پالیسی پر غور کر رہی ہے جو ان کے لیے قانونی تحفظ اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد افغان باشندوں کو پاکستان میں باعزت طور پر رہنے، کام کرنے اور معیشت میں حصہ لینے کی سہولت دینا ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ، چوہدری طلال نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ پی او آر (Proof of Registration) کارڈز کی مدت ختم ہونے والے افغان پناہ گزینوں کو عارضی توسیع دی جائے یا طویل مدتی ویزا دیا جائے تاکہ وہ اپنے اثاثے فروخت کیے بغیر محفوظ طریقے سے پاکستان میں رہ سکیں اور روزگار جاری رکھ سکیں۔

قانونی تحفظ اور اقتصادی مواقع
چوہدری طلال کا کہنا ہے کہ نئی ویزا پالیسی نہ صرف افغان پناہ گزینوں کو قانونی تحفظ فراہم کرے گی بلکہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دے گی۔ یہ پالیسی افغان سرمایہ کاروں، تاجروں اور ہنرمندوں کو کاروبار کرنے اور معیشت کا حصہ بننے کے مواقع فراہم کرے گی، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہو گی۔

عالمی اداروں کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 1.6 ملین افغان شہری مقیم ہیں، جن میں سے 10 لاکھ سے زائد کے پاس پی او آر کارڈز ہیں۔ ان کارڈز کی مدت 30 جون 2025 کو ختم ہو چکی ہے، اور حکومت ان افراد کو کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

معاشی فوائد اور معاشرتی شمولیت
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی جانب سے چلایا جانے والا "بیونڈ باؤنڈریز” پروگرام افغان پناہ گزینوں کے لیے دیرپا حل تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد نہ صرف ویزا سہولیات بلکہ رہائش، سرمایہ کاری اور قانونی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

قبائلی تاجر احمد شاہ کے مطابق صرف دوستوخیل قبیلے کے تاجروں نے پشاور میں 52 ارب روپے کے اثاثے بنائے ہیں اور 2023 میں 14 ارب روپے کی ترسیلات بھیجی ہیں۔ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ انہیں قانونی دائرے میں لایا جائے تاکہ پاکستان کی معیشت کو مزید فروغ مل سکے۔

آئندہ کا لائحہ عمل
حکومت پاکستان کی جانب سے نئی ویزا پالیسی کا اعلان جلد متوقع ہے، جس سے نہ صرف افغان پناہ گزینوں کو ایک نئی زندگی کی امید ملے گی بلکہ پاکستان میں اقتصادی ترقی اور معاشرتی استحکام کو بھی تقویت ملے گی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button