اسلام آباد (نیوز ڈیسک): مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے لیے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے—ملک بھر میں بجلی کی فی یونٹ قیمت 65 پیسے تک کم ہونے کا امکان ہے۔ اگر منظوری مل گئی تو لاکھوں صارفین کو آئندہ ماہ کے بجلی بلوں میں ریلیف مل سکتا ہے۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جون 2025 کے لیے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو باقاعدہ درخواست جمع کرا دی ہے۔ نیپرا اس درخواست پر 30 جولائی 2025 کو باقاعدہ سماعت کرے گا۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
سی پی پی اے کے مطابق جون کے مہینے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو 13 ارب 31 کروڑ یونٹس سے زائد بجلی فراہم کی گئی، جس کی اوسط پیداواری لاگت 7 روپے 68 پیسے فی یونٹ رہی۔
جبکہ اسی ماہ کے لیے ریفرنس لاگت 8 روپے 33 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی۔ اس فرق کی بنیاد پر فی یونٹ 65 پیسے کی کمی تجویز کی گئی ہے۔
کمی منظور ہوئی تو کب سے فائدہ ہو گا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نیپرا نے یہ تجویز منظور کر لی تو اس کا فائدہ صارفین کو اگلے ماہ کے بجلی بلوں میں واضح طور پر نظر آئے گا، جو موجودہ مہنگائی کے دور میں ایک قابلِ قدر ریلیف ہو گا۔
عوامی ردعمل اور ماہرین کی رائے
توانائی ماہرین اور صارفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کمی معمولی نظر آتی ہے، لیکن موجودہ معاشی حالات میں ہر روپیہ قیمتی ہے۔
یہ کمی خاص طور پر ان صارفین کے لیے اہم ہو سکتی ہے جن کے بجلی بل گرمیوں میں بہت بڑھ جاتے ہیں۔
نیپرا کا فیصلہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے
اب تمام نظریں 30 جولائی کو ہونے والی نیپرا کی سماعت پر مرکوز ہیں۔ اگر ادارہ سی پی پی اے کی درخواست کو منظور کرتا ہے، تو یہ فیصلہ نہ صرف عوامی سطح پر مقبول ہو گا بلکہ حکومت کے لیے سیاسی فائدے کا بھی باعث بن سکتا ہے۔






