واشنگٹن (نیوز ڈیسک): سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف مالیاتی اخبار وال اسٹریٹ جرنل، اس کے مالک روپرٹ مرڈوک اور اشاعتی ادارے ڈاؤ جونز کے خلاف 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ مقدمہ فلوریڈا کی سدرن ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کیا گیا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب اخبار نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے 2003 میں بدنام زمانہ کاروباری شخصیت جیفری ایپسٹین کو اس کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر ایک مبینہ طور پر متنازع تحفہ بھیجا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس تحفے میں ایک خط شامل تھا جس میں لکھا گیا تھا:
"جیفری، ہم میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ زندگی کا مطلب صرف سب کچھ حاصل کرنا نہیں، بلکہ کچھ بننا بھی ہے۔ سالگرہ مبارک ہو، میری خواہش ہے تمہارا ہر دن شاندار رازوں سے بھرا ہو۔”
اخبار کا دعویٰ تھا کہ یہ پیغام ایک ایسے کاغذ پر لکھا گیا تھا جس پر ایک خاتون کی نیم برہنہ تصویر کا اسکیچ موجود تھا، اور اس پر "ڈونلڈ” کے دستخط بھی تھے۔
ٹرمپ کی دوٹوک تردید: "یہ سب جھوٹ اور بہتان ہے”
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رپورٹ کو "جھوٹ، فریب اور کردار کشی کی بدترین کوشش” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نہ تو انہوں نے ایپسٹین کو کوئی پیغام بھیجا، نہ کوئی تحفہ، اور نہ ہی اسکیچ ان سے منسوب ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا:
"میں نے زندگی میں کبھی کوئی تصویر نہیں بنائی، نہ خواتین کی تصویریں اسکیچ کرنا میرا شوق رہا ہے۔ اخبار میں مجھ سے منسوب کی گئی زبان میرے انداز تحریر سے میل نہیں کھاتی۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ پہلے ہی اخبار، ایڈیٹر اور مرڈوک کو اس رپورٹ کی اشاعت سے باز رہنے کا انتباہ دے چکے تھے، کیونکہ یہ مواد جھوٹ پر مبنی تھا۔
مرڈوک کو عدالت میں طلب کرنے کی خواہش
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور جملے میں خاصی شدت دکھاتے ہوئے کہا:
"میں منتظر ہوں کہ روپرٹ مرڈوک عدالت میں پیش ہوں اور گواہی دیں، یہ ایک دلچسپ تجربہ ہو گا۔”
مخالفین کا ردعمل اور نیا تنازع
دوسری جانب کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے ایک ایسی تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ تصویر ٹرمپ نے ایک چیریٹی تنظیم کو بطور تحفہ دی تھی۔
اسی طرح سابق رکن کانگریس ایڈم کنزنگر نے بھی سوشل میڈیا پر درجنوں تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو ڈرائنگ کا شوق ہے اور ان کی کئی تخلیقات موجود ہیں۔
سیاسی اور صحافتی کشیدگی کا نیا باب؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مقدمہ نہ صرف ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان کشیدگی کو نئی جہت دے سکتا ہے، بلکہ آزادیِ صحافت، عوامی شخصیات کی ساکھ اور قانونی حدود کے تناظر میں بھی اہم سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
عدالت اس مقدمے میں کیا موقف اختیار کرتی ہے، اور کیا واقعی روپرٹ مرڈوک گواہی دینے عدالت میں پیش ہوں گے؟—یہ آنے والے دنوں میں امریکی سیاست اور میڈیا کے لیے ایک اہم اور سنسنی خیز مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔






