اہم خبریںدنیا

نیتن یاہو حکومت شدید سیاسی بحران کا شکار، اتحادی جماعتوں کی علیحدگی سے اقتدار خطرے میں

یروشلم:
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں قائم حکومتی اتحاد کو ایک سنگین سیاسی بحران کا سامنا ہے، جب کہ اہم مذہبی اتحادی جماعت "شاس پارٹی” نے حکومت سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس پیش رفت سے نیتن یاہو کی حکومت کی پارلیمان میں اکثریت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، شاس پارٹی کے 11 ارکان پارلیمان سے علیحدگی کے بعد حکومت کے پاس صرف 50 نشستیں باقی رہ جائیں گی، جبکہ اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمان) میں سادہ اکثریت کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

متنازعہ قانون بحران کی جڑ
حکومتی اتحاد میں دراڑ اس وقت گہری ہوئی جب نیتن یاہو حکومت مذہبی تعلیمی اداروں (یشیوا) کے طلبہ کو فوجی سروس سے استثنیٰ دینے کے متنازعہ قانون کی منظوری میں ناکام رہی۔ شاس پارٹی، جو اس قانون کی شدید حامی رہی ہے، نے حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی۔

یو ٹی جے پہلے ہی علیحدہ ہو چکی
اس بحران کی شدت میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب اس سے قبل ایک اور اہم مذہبی اتحادی جماعت "یونائیٹڈ توراہ جوڈازم” (UTJ) نے بھی حکومتی صفوں سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ UTJ کی علیحدگی نے نیتن یاہو حکومت کو پہلے ہی غیر مستحکم کر دیا تھا، اور اب شاس پارٹی کے فیصلے نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

نئے انتخابات یا سیاسی سودے بازی؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر شاس پارٹی اپنی علیحدگی پر قائم رہی، تو نیتن یاہو کو اکثریت برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر نئے سیاسی اتحاد بنانے ہوں گے، بصورت دیگر ملک کو نئے انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بحران نیتن یاہو کے طویل سیاسی کیریئر اور اقتدار میں مستقل رہنے کی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button